مظفرآباد (ویب ڈیسک) کشمیری کلچہ صرف ایک روایتی بیکری آئٹم نہیں بلکہ کشمیر کی ثقافت، مہمان نوازی اور قدیم روایات کی ایک خوبصورت پہچان ہے۔ خوشبو اور منفرد ذائقے سے بھرپور یہ کلچہ کشمیری گھروں میں چائے کے ساتھ خاص طور پر پسند کیا جاتا ہے۔
صدیوں سے کشمیری کلچہ مقامی دسترخوان کا حصہ چلا آ رہا ہے اور آج بھی کشمیر آنے والے سیاح اسے بطور سوغات اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ اس کی مقبولیت نہ صرف مقامی سطح پر برقرار ہے بلکہ بیرونِ کشمیر رہنے والے کشمیری بھی اس روایتی ذائقے کو بے حد پسند کرتے ہیں۔
کلچہ سازی کی تاریخی روایت اور تیاری کا طریقہ:
کلچہ سازی کی یہ روایت صدیوں پرانی ہے جسے مغل دورِ حکومت سے بھی منسوب کیا جاتا ہے۔ روایتی طور پر اسے میدے، خالص گھی، خمیر اور ہلکی مٹھ یا نمک کے امتزاج سے تیار کیا جاتا ہے۔ روایتی مٹی کے تندور میں پکنے والا یہ سنہری اور خستہ کلچہ اپنی خوشبو اور ذائقے کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیری کلچہ : خستہ ذائقے کی وہ سوغات جو ایک بار کھا لے وہ بار بار کھائے!
مظفرآباد اور گردونواح کے ماہر کاریگر اس فن میں بالخصوص شہرت رکھتے ہیں، جن کے ہاتھ کا بنا یہ کلچہ دیسی گھی اور عمدہ اجزاء کی بدولت طویل عرصے تک محفوظ بھی رکھا جا سکتا ہے۔ کشمیری کلچہ دراصل ایک ایسی سوغات ہے جو ذائقے کے ساتھ کشمیر کی تہذیب، روایات اور مہمان نوازی کی خوشبو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔
فوڈ بازار کا دورہ اور کشمیری کلچے کا منفرد تجربہ:
جب آپ مظفرآباد یا کشمیر کا دورہ کرتے ہیں اور کشمیری کلچے ٹرائی نہیں کرتے، تو آپ کا سفر نامکمل رہتا ہے۔ مظفرآباد کے فوڈ بازار میں موجود ایک روایتی کلچے کی دکان پر جب اس کے بنانے کے مراحل کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ کس قدر محنت اور مہارت سے تیار کیے جاتے ہیں۔ کاریگروں کے مطابق اسے تیار کرنے کے لیے میدہ، گھی، انڈا، نمک اور دیگر اجزاء کو گوندھ کر پیڑے بنائے جاتے ہیں، جن پر انڈے کی زردی لگائی جاتی ہے جو اس کے خوبصورت سنہری رنگ کا باعث بنتی ہے۔ کوئلوں کی دھیمی آنچ اور روایتی تندور میں پکنے والے ان کلچوں کی تیاری میں ایک خاص وقت لگتا ہے۔
یہاں مختلف سائز کے کلچے دستیاب ہیں جن کی قیمتیں 10 روپے سے لے کر بڑے سائز تک مختلف ہوتی ہیں، جبکہ اس میں میٹھے کلچے کی ورائٹی بھی موجود ہوتی ہے۔گرما گرم کشمیری کلچے کو جب چائے کے ساتھ کھایا جائے تو اس کا ذائقہ دل موہ لیتا ہے، اور اس کی خستگی اور ذائقہ واقعی ہر آنے والے سیاح اور مقامی شہری کے لیے ایک لاجواب تجربہ ثابت ہوتا ہے۔




