مظفرآباد (ویب ڈیسک) مظفرآباد شہر کے دیرینہ اور انتہائی اہم میگا پروجیکٹ سی ایم ایچ فلائی اوور کی تاحال تکمیل نہ ہونے پر گہرے غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ محکمہ شاہرات کے چیف انجینئر کی جانب سے سخت نوٹس لیتے ہوئے تعمیراتی کمپنی کے ٹھیکیدار راجہ تجمل کو پروجیکٹ مکمل کرنے کے لیے 45 دن کی حتمی ڈیڈ لائن دے دی گئی ہے۔
پروجیکٹ کا پس منظر اور تاخیر کی وجوہات:
یاد رہے کہ یہ پروجیکٹ 2021 میں مسلم لیگ (ن) کی اس وقت کی حکومت کے دور میں شروع کیا گیا تھا۔ سابق وزیرِ اعظم راجہ فاروق حیدر خان کے کہنے پر یہ ٹھیکہ راجہ تجمل خان کو دیا گیا تھا، جبکہ اس پراجیکٹ سے وابستہ ان کے بھتیجے راجہ ساجد خان (جو پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے سابق رہنما رہے ہیں) اب اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ مظفرآباد شہر کے اس بڑے اور منفرد میگا پروجیکٹ کو پانچ سے چھ سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے، مگر مختلف اوقات میں ڈیزائن تبدیل ہونے کے باوجود ٹھیکیدار اب تک اس کی تکمیل نہیں کر سکا۔ اس کے برعکس میرپور کا رکا ہوا میگا پروجیکٹ ’ٹھوا ریہم پور‘ اپنی تکمیل کو پہنچ چکا ہے، اور راولپنڈی اسلام آباد میں سرینا ہوٹل کے سامنے والا پروجیکٹ بھی مقررہ کم مدت میں مکمل ہو گیا، لیکن یہ منصوبہ تاخیر کا شکار رہا ہے۔ اس دوران محکمہ شاہرات کے افسران، ملازمین اور انجینئرز مبینہ طور پر ٹھیکیدار سے خوفزدہ رہے یا نرمی برتتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم افتخار گیلانی کا مظفرآباد میں خفیہ دورہ, سیاسی و سرکاری حلقوں سے اہم ملاقاتیں
شہریوں کی مشکلات اور غیر قانونی قبضے:
اس پروجیکٹ کے باعث مظفرآباد شہر کے لوگ سالوں سے شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ سی ایم ایچ روڈ پر گھنٹوں ٹریفک بند رہتی ہے جہاں سے مریضوں کی ایمبولینسز، سکول کے معصوم بچے اور سرکاری ملازمین گزرتے ہیں۔ دن بھر ہزاروں گاڑیوں کی آمدورفت کے باعث پانچ سے دس منٹ کا عام سفر ڈیڑھ سے پونے دو گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ صورتحال اس حد تک خراب ہے کہ فلائی اوور کے دائیں اور بائیں جانب خالی جگہوں پر سوزکی کیری اور دیگر پرائیویٹ اڈوں نے غیر قانونی طور پر قبضہ کر کے اڈے بنا لیے ہیں، جبکہ قانوناً کسی بھی سرکاری اراضی پر بغیر اجازت یا الاٹمنٹ قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔




