اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)نیشنل سٹیزن سروے 2026 کے مطابق پاکستان کا اپنی نوعیت کا پہلا اور سب سے بڑا رائے عامہ کا جائزہ، لیا گیا
شہریوں کی توقعات اور وسائل کی تقسیم کے مابین فرق کو جانچنے کیلئے خاص طور پر تیار کیا گیا ۔ اسلام آباد میں سٹیزنز راؤنڈ ٹیبل میں طور پر متعارف کرایا گیا ، جسے PILDAT Consulting نے مرتب کیا جس کے نتائج کی آزادانہ تحقیق آئی پی او آر نے کی۔
سروسے کے مطابق بجلی کے بل، نہ کہ حکومتی ترجیحات ، وہ مسئلہ ہیں جو زیادہ تر پاکستانیوں کی راتوں کی نیند اڑائے ہوئے ہیں۔
ملک کا وفاقی بجٹ اس حقیقت کی عکاسی مشکل ہی سے کرتا ہے۔ نیشنل سٹیزن سروے 2026 کا چشم کشا نتیجہ ہے، جو 5,155 شہریوں پر مشتمل ایک ملک گیر جائزہ ہے جسے اسلام آباد ایک معروف ہوٹل میں منعقدہ سٹیزنز راؤنڈ ٹیبل میں جاری کیا گیا،
جہاں اکادمی، تھنک ٹینکس، عدلیہ، وکلا برادری اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے نتائج پر غور و خوض کیا گیا ۔
یہ سروے ادارہ برائے تحقیق رائے عامہ (IPOR) کی جانب سے کرایا گیا اور PILDAT Consulting کے زیر اهتمام راؤنڈ ٹیبل کے ذریعے عوامی اور پالیسی سطح پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔
اس کے نتائج واضح ہیں :
بجلی کی بڑھتی قیمتیں ملک بھر کے شہریوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں۔ جبکہ وفاقی بجٹ میں صحت کیلئے مختص رقم محض 0.1فیصد ہے، جو قرض کی ادائیگی کیلئے مختص 42.9 فیصد کے مقابلے میں 400 گنا کم ہے۔
محققین کے مطابق ان نتائج کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ شہری کن مسائل سے پریشان ہیں بلکہ اس بات میں بھی ہے کہ یہ تشویش ریاستی ترجیحات سے کس قدر مختلف ہے ۔ ایک ایسا رجحان جو سروے کے مطابق چاروں صوبوں ، دیہی وشہری
علاقوں اور ہر عمر ،آمدنی کے طبقات میں یکساں طور پر پایا گیا۔
اہم اعداد و شمار
19فیصد شہری بجلی اور گیس کی بڑھتی قیمتوں کو پاکستان کا نمبر ایک مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ ملک کے کسی بھی دوسرے مسئلے سے زیادہ۔
42.9فیصد وفاقی وفاقی بجٹ صرف قرض کی ادائیگی میں صرف ہوتا ہے۔ دفاع، صحت، تعلیم، پنشن اور سبسڈیز، سب ملاکر بھی اس سے کم
18 فیصد شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں کسی سرکاری اہلکار نے ان سے رشوت طلب کی۔ پاکستان کی عالمی کرپشن درجہ بندی کے پیچھے ایک ٹھوس ثبوت۔
91.فیصد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کاروبار شروع کرنا یا چلانا بہت مشکل ہے، جس میں ٹیکس نظام کو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا۔
کوئی ایک بھی ادارہ نہ پارلیمنٹ، نہ الیکشن کمیشن، نہ ایف بی آر،اکثریتی شہریوں کا مکمل اعتماد حاصل نہیں کر سکا۔
42 فیصد شہری اب خبروں کیلئے ٹیلی ویژن سے زیادہ سوشل میڈیا پر اعتماد کرتے ہیں جبکہ 56 فیصد سماجی اقدار میں تنزلی کا ذمہ دار انٹرنیٹ کو ٹھہراتے ہیں۔
. 79 فیصد منشیات کے بڑھتے استعمال کو “ انتہائی خطرناک ” قرار دیتے ہیں۔
. 66 فیصد شہری پاکستان کے بڑھتے قرضوں کو سنگین تشویش کا باعث سمجھتے ہیں، جن میں سے 49 فیصد سے انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہیں
43 فیصد غیر ملکی فنڈڈ این جی اوز اور تھنک ٹینکس کی رپورٹس کو حقائق کے برخلاف، مبالغہ آمیز یا کسی غیر ملکی ایجنڈے سے جڑا ہوا سمجھتے ہیں ۔ جبکہ صرف 25 فیصد انہیں حقائق پر مبنی قرار دیتے ہیں ۔
. ایف آئی اے اور نیب تمام جانچے گئے اداروں میں سب سے زیادہ عوامی اعتماد رکھتے ہیں (بالترتیب 33 فیصد اور سے 23 فیصدمکمل اعتماد)جو بارلیمنٹ15) فیصد) اور ریونیو ڈپیارٹمنٹ (13) فیصد) سے کہیں سے کہیں آگے ہے ہے۔
. 60 فیصد کہتے ہیں کہ پاکستان کا تعلیمی نظام جدید معیشت کی ضروریات پورا نہیں کرتا۔
. 68 فیصد آئی ایم ایف پروگرام کو یا تو نقصان دہ یا عام عوام کیلئے بے فائدہ سمجھتے ہیں۔
ایک ایسا فرق جو پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے
محققین کے مطابق ان نتائج کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کیونکہ ان میں تسلسل پایا جاتا ہے:
شہریوں کی ترجیحات اور سرکاری اخراجات کے درمیان یہ خلا چاروں صوبوں ، شہری و دیہی علاقوں اور تمام آمدنی اور عمر کے گروہوں میں یکساں طور پر موجود ہے۔
منتظمین کا کہنا ہے: یہ پاکستان کا پہلا سروے ہے جو خاص طور پر اس فرق کو ناپنے کیلئے تیار کیا گیا۔ نہ صرف یہ کہ شہری کیا سوچتے ہیں، بلکہ یہ کہ ان کی سوچ سرکاری . ت سے کتنی مختلف ہے۔
بجلی کے اخراجات اور قرض کی ادائیگی کے درمیان بنیادی تضاد کے علاوہ، سروے ایک وسیع تر تصویر بھی پیش اور کی کرتا ہے جس میں شہری مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔
تقریباً ایک پانچواں حصہ شہری روزمرہ اشیاء کی بڑھتی قیمتوں کو بڑا مسئلہ قرار دیتے ہیں۔جبکہ بیروزگاری ملک بھر میں تیسرے نمبر پر ہے۔ جو مجموعی طور پر کاگھیریلو بجٹ پرہر جانب دبائو کی عکاسی کرتا ہے جہاں 91 فیصد جواب دہندگان کے مطابق ملک میں کاروبار شروع کرنا یا چلانا مشکل ہے۔
سروے ان اداروں پر عوامی اعتماد کا بھی جائزہ لیتا ہے جو شہریوں کی خدمت کیلئے بنائے گئے ہیں، اور نتائج تشویشناک ہیں :
پار لیمنٹ سے لے کر الیکشن کمیشن اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو تک، کوئی ایک ادارہ بھی اکثریتی جواب دہندگان کا مکمل اعتماد حاصل نہیں کر سکا۔
کرپشن سے متعلق نتائج بھی اتنے ہی واضح ہیں:
تقریباً ایک پانچواں حصہ شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کسی سرکاری اہلکار نے ان سے رشوت طلب کی جو بین الاقوامی کرپشن اشاریوں میں پاکستان کے مقام کو زمینی حقائق کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
میڈیا اور عوامی گفتگو کے حوالے سے، سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا نے اب خبروں کے لیے ٹیلی ویژن کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔
جبکہ اکثریتی شہری بیک وقت غیر منظم انٹرنیٹ استعمال کو سماجی و اخلاقی اقدارکے زوال کا ذمہ دار بھی ٹھہراتے ہیں، ایک ایسا تضاد جیسے محققین اس ڈیٹا کے پیچیدہ ترین نتائج میں شمار کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے ضابطے سے متعلق آراء بھی عمر کے لحاظ سے مختلف دکھائی دیتی ہیں،بڑی عمر کے جواب دهندگان عموماً سخت ضابطوں کے حامی نظر آتے ہیں جبکہ نوجوان جواب دہندگان پابندیوں کے حوالے سےزیادہ محتاط ہیں، تاہم سروے کے شائع شدہ نتائج میں اسے مخصوص عمر کے گروہوں کے لحاظ سے تقسیم نہیں کیا گیا۔
یہ کیوں اہم ہے
منتظمین کا کہنا ہے کہ اس سروے کی اہمیت صرف اس کے انکشافات میں نہیں بلکہ اس بات میں بھی ہے کہ یہ کس حد تک پالیسی سازی میں براہ راست راست رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔
پاکستان کا کا وفاقی بجٹ ڈھانچائی طور پر قرض کی ادائیگی کے زیر اثر ہونے کے باعث یہ نتائج اس سوال کو نمایاں کرتے ہیں کہ صحت، تعلیم، سینڈیز اور ترقیاتی خراجات کیلئے کتنی گنجائش باقی رہ جاتی ہے جو شہریوں کے اہم ترین خدشات کا ازالہ کر سکیں۔
رپورٹ کے مصنفین اسے مالی خلاء، اعتماد کا خلا اور ریلیف کا خلا قرار دیتے ہیں ۔ یہ تینوں اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریاست فی الحال کیا فراہم کر رہی ہے اور شہری اصل میں کیا چاہتے ہیں، ان کے درمیان کتنا فرق ہے۔
ان نتائج پر غور کیلئے منعقدہ سٹیزنز راؤنڈ ٹیبل میں پاکستان کی پالیسی برادری کے مختلف طبقات شریک ہوئے ماہرین معیشت، اکادمی، تھنک ٹینگ محققین اور سینئر صحافی جو اسلام آباد کے پالیسی حلقوں میں اس سروے کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔
راؤنڈ ٹیبل کی روداد
مامون بلال، ایگزیکٹو ڈائریکٹرپلڈاٹ کنسلٹنگ نے افتتاحی کلمات اداکئے، اور اکادمی، تھنک ٹینک نمائندگان، عدلیہ اور قانونی ماہرین، اور صحافیوں پر مشتمل حاضرین کو خوش آمدید کہا تا کہ وہ نتائج پر براہ راست غور کر سکیں، نیز اسے PILDAT Consulting کی آزادانہ تحقیق کو پالیسی اور عوامی مکالمے سے جوڑنے کی وسیع تر کاوش کا حصہ قرار دیا۔
جناب طارق جنید، ایگزیکٹو ڈائریکٹر IPO نے سروے کے طریقہ کار اور نتائج پر تفصیلی روشنی ڈالی، اور معاشی حالات، اداروں پر اعتماد، کرپشن اور عوامی رجحانات سے متعلق اہم نتائج کے پیچھے موجود ڈیٹا کی وضاحت کی ، نیز کے مطالعے کے دائرہ کار اور مضمرات سے متعلق سوالات کے جوابات دیئے۔
ڈاکٹر ارم بتول چیف اکانومسٹ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) نے نتائج پر PIDE کا نقطہ نظر پیش کیا، اور سروے کے مالیاتی و معاشی نتائج کو پاکستان کے وسیع تر ترقیاتی اور بجٹی چیلنجز کے تناظر میں رکھا۔
پروفیسر اشرف انصاری، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (NUML) اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر پاکستان آبزرور نے نتائج پر علمی اور میڈیا صنعت، دونوں کا نقطہ نظر پیش کیا، اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہ نتائج عوامی مکالمے، اداراتی جوابدہی اور نیوز رومز کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں۔
بعد ازاں ہونے والی بحث میں حاضر اکادمی، تھنک ٹینک نمائندگان، عدلیه و قانونی ماہرین اور صحافیوں نے بھر پور حصہ لیا جو اسلام آباد کی پالیسی، قانونی اور میڈیا برادری میں ان نتائج سے پیدا ہونے والی گہری دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔
شرکاء بار بار اداروں سے متعلق نتائج کی جانب لوٹے ، خاص طور پر پارلیمنٹ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کیلئے ریکارڈ کئے گئے عوامی اعتماد کی کم سطح پرتشویش کا اظہار کیا اور ان اداروں میںاعتمادکے زوال کو فوری توجہ کا متقاضی مسئلہ قرار دیا۔
ٹیکس کے معاملے پر بھی خاصی گفتگو ہوئی ، متعدد شرکاء نے موجودہ ٹیکس نظام کو ملک میں کاروباری ترقی اور وسیع تر معاشی وسعت میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ۔ ایک ایسا نقطہ نظر جو سروے کے اپنے نتائج سے ہم آہنگ ہے۔
سروے کے بارے میں
نیشنل سٹیزن سروے 2026 ادارہ برائے تحقیق رائے عامہ (IPOB) کی جانب سے 23 اگست سے5 ستمبر 2026 کے دوران 155 بالغ شہریوں کے ساتھ اپنے سامنے گھرگھر جا کر کئے گئے انٹرویوز کے ذریعے عمل کیا گیا۔
اس کیلئے چار مرحلوں پر مبنی سٹریفائڈ نمونہ استعمال کیا گیا جو چاروں صوبوں، دیہی (60 فیصد) اور شہری (40 فیصد) علاقوں، اور تمام بڑے عمر، صنف اور آمدنی کے گروہوں کی نمائندگی کرتا ہے۔
غلطی کا مارجن 95 کی فیصد اعتماد کی سطح پر 1.55 فیصد ہے۔ سروے کو IPOR نے مکمل طور پر آزادانہ طور پر ڈیزائن ، فیلڈ ورک اور تجزیہ کیا؛ جبکہ PILDAT Consulting نے سٹیزنز راؤنڈ ٹیبل کا اہتمام کیا اور رپورٹ کے عوامی اجراء کے لیے سٹیک ہولڈر رابطہ کاری اور کمیونیکیشنز کی ذمہ داری نبھائی۔




