اسلام آباد میں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق آنے والے پنج سالہ دورانیے کی نئی آٹو پالیسی کی منظوری کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ صلاح مشورے سے مشروط کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس کی حتمی منظوری میں مزید تاخیر کا امکان پایا جاتا ہے۔
نئی پالیسی کے حوالے سے متعلقہ حکام کی طرف سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کا مسودہ مکمل طور پر تیار کر لیا گیا ہے مگر اس پر حتمی مہر تصدیق آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے تفصیلی جائزہ مذاکرات کے بعد ہی لگائی جائے گی۔
آٹو پالیسی کی منظوری میں التوا اور اسباب:
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ مشاورت کا مرحلہ طے پانے کے بعد ہی اس پالیسی کو حتمی شکل دی جائے گی جس کے باعث اس کی باضابطہ منظوری تاحال التوا کا شکار ہے اور نئی آٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی کے اجراء میں مزید تاخیر کا عندیہ ملا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نئی آٹو پالیسی اور کروڑوں موٹر سائیکل صارفین کے لیے مراعات کا فقدان
وزارتِ صنعت و پیداوار کے معتبر حلقوں کی جانب سے دی گئی تفصیلات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگرچہ نئی آٹو پالیسی کا مسودہ پہلے ہی مکمل کیا جا چکا ہے تاہم اس ضمن میں مزید پیش رفت آئی ایم ایف کی جائزہ ٹیم کے دورے سے جڑی ہوئی ہے۔
آئی ایم ایف کا دورہ اور آئندہ کا لائحہ عمل:
مقررہ شیڈول کے مطابق آئی ایم ایف کی جائزہ ٹیم تیئیس ستمبر سے پاکستان کے دورے پر آرہی ہے اور اسی دورے کے دوران تیار کردہ مسودے پر مذکورہ ٹیم کے ساتھ باضابطہ مشاورت کی جائے گی۔
تمام متعلقہ امور پر عالمی ادارے کے وفد کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا اور اس کے بعد ہی پالیسی کے حوالے سے اگلا لائحہ عمل طے پائے گا جس سے آٹو سیکٹر کی نئی پالیسی کا انتظار مزید طویل ہو گیا ہے۔




