نئی دہلی (کشمیر ڈیجیٹل) سینئر بھارتی صحافی اور ”دی پرنسپل، انڈیا“ کے ایڈیٹر اجے شکلا کی برکس کانفرنس کی ناکامی پر مودی حکومت پر کڑی تنقید ۔
بھارتی صحافی نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے دعوے کے باوجود کہ مودی ”وشوا گرو“ بن کر ابھرے ، برکس سے بھارت کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اجے شکلا نےکہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ایران اور روس سے متعلق معاملات پر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے پسپائی اختیار کی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کوپرہ چوکی حملہ آور کی شناخت، تعلق ٹی ٹی کے دہشتگرد تنظیم سے نکلا،باغ پولیس کا انکشاف
شکلا نے کہا کہ بھارتی حکومت کی آزاد خارجہ پالیسی کے دعووں کی حقیقت کھل گئی۔ برکس سے بھارت کو کچھ حاصل نہیں ہو اور بی جے پی کے حامی صرف یہ دعویٰ ہی کر سکتے ہیں کہ مودی ”وشوا گرو“ بن گئے ہیں۔
انہوں نے بھارت کی معاشی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چین نے موثر طور پر بھارت کو اپنی مصنوعات کے لیے ایک ڈمپنگ گراونڈ بنا دیا ہے۔
انہوں نے بھارتی معیشت کی حقیقی صورتحال پر سوال اٹھایا۔سینئر صحافی نے بھارت میں بے روزگاری کی سنگین صورتحال کو اجاگر کیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اصلاحاتی پلان پر فوری عملدرآمد یقینی بنائیں گے، وزیراعظم گیلانی کی یقین دھانی
بھارتی صحافی کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی جی ڈی پی کی شرح نمو صفر ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بھارت میں 8 ہزار اور 10 ہزار روپے ماہانہ کی ملازمتوں کیلئے طویل قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھنے والے افراد بھی چپراسی کی نوکریوں کے لیے درخواستیں دے رہے ہیں۔
شکلا کے اس بیان میں مودی حکومت کی جانب سے بھارت کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کے دعووں اور ملک کو درپیش معاشی و روزگار کے مسائل کے درمیان موجود فرق کو اجاگر کیا گیا ہے۔




