نئی آٹو پالیسی اور کروڑوں موٹر سائیکل صارفین کے لیے مراعات کا فقدان

حکومت کی جانب سے متعارف کرائی جانے والی نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی 2026-2031 میں ملک کے کروڑوں موٹر سائیکل صارفین کے لیے کسی بھی قسم کی واضح اور مؤثر مراعات کے نہ ہونے پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ پاکستان میں سڑکوں پر دوڑنے والی گاڑیوں کی مجموعی تعداد میں موٹر سائیکلوں کا حصہ سب سے زیادہ ہونے کے باوجود اس نئی پالیسی میں انہیں مناسب توجہ نہیں دی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کی جانب سے آٹو پالیسی پر نظرثانی کے لیے قائم کی جانے والی کمیٹی کے اجلاس کے دوران الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بعض ٹیکسز اور ڈیوٹی میں ریلیف کے ساتھ ساتھ مقامی صنعت کے حوالے سے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا ہے۔ تاہم دوسری جانب عام آدمی کی پہنچ میں الیکٹرک بائیکس کی خریداری کو ممکن بنانے کے لیے کوئی واضح اور بڑا پیکیج سامنے نہیں آیا ہے۔

پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی کل تعداد تقریباً 3 کروڑ 90 لاکھ ہے، جن میں سے تقریباً 78 فیصد اکیلے موٹر سائیکلیں ہیں۔ اس حساب سے پاکستان میں موٹر سائیکلوں کی مجموعی تعداد 3 کروڑ سے زائد بنتی ہے جو کہ ٹرانسپورٹ کا ایک بہت بڑا حصہ ہے۔

ملکی معیشت اور ٹرانسپورٹ نظام میں موٹر سائیکل کا کردار:

موٹر سائیکلیں پاکستان کے مجموعی ٹرانسپورٹ نظام اور معیشت میں ایک بنیادی اور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ملک کے لاکھوں شہری اپنی روزمرہ کی آمدورفت، روزگار، ملازمت، کاروبار، ڈلیوری سروسز اور دیگر اشیائے ضروریہ کے کاموں کے لیے موٹر سائیکل کو ہی استعمال کرتے ہیں، جبکہ کم آمدنی والے طبقے کے لیے یہ سواری نسبتاً سستی سمجھی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بجلی کا بل دینے کیلئے 26ہزار کا موٹرسائیکل بیچا، 70ہزار کے چالان نکل آئے

آج کے دور میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عام موٹر سائیکل صارفین پر بھی ایندھن کے بھاری اخراجات کا ایک بہت بڑا بوجھ پڑ رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اگر ملک میں موجود تقریباً 3 کروڑ موٹر سائیکلیں اوسطاً روزانہ صرف ایک لیٹر پیٹرول کا استعمال کریں تو اس مد میں سالانہ تقریباً 11 ارب لیٹر پیٹرول درکار ہوگا۔

خام تیل کے ایک بیرل سے اوسطاً 70 لیٹر پیٹرول حاصل ہونے کی بنیاد پر یہ مقدار تقریباً 15 کروڑ 80 لاکھ بیرل کے برابر بنتی ہے۔ اس حساب کتاب سے باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ان موٹر سائیکلوں کو برقی توانائی پر منتقل کر دیا جائے تو اس سے ملک کے مجموعی ایندھن کے استعمال میں انتہائی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے فوائد اور مالی مشکلات:

موجودہ رپورٹس کے مطابق الیکٹرک موٹر سائیکل کے فی کلومیٹر سفری اخراجات روایتی پیٹرول موٹر سائیکل کے مقابلے میں کافی کم ہوتے ہیں۔ اس بچت سے ڈلیوری رائیڈرز، کمرشل موٹر سائیکل سواروں اور روزانہ دفتر یا کام پر آنے جانے والے عام افراد کو ماہانہ ہزاروں روپے تک کی بچت ہو سکتی ہے۔

تاہم اس کے برعکس الیکٹرک بائیکس کی زیادہ ابتدائی قیمت عام شہری کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ بعض مارکیٹ اندازوں کے مطابق ایک الیکٹرک موٹر سائیکل روایتی پیٹرول موٹر سائیکل کے مقابلے میں تقریباً 50 سے 80 فیصد تک زیادہ مہنگی پڑ سکتی ہے، جس کی وجہ سے غریب اور کم آمدنی والے صارفین کے لیے اس کا حصول بہت مشکل ہو گیا ہے۔

ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ حکومت کو صرف درآمدی ڈیوٹی میں کمی تک محدود رہنے کے بجائے الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے لیے خصوصی فنانسنگ اور ری فنانسنگ اسکیمیں متعارف کرانی چاہئیں۔ اس سے کم آمدنی والے افراد کو آسان اور سبسڈائزڈ قرضوں کے ذریعے الیکٹرک بائیکس خریدنے کا بہترین موقع مل سکے گا۔

ماہرین کی تجاویز اور پالیسی پر اٹھنے والے سوالات:

تجویز کے مطابق پیٹرول کی مد میں ہونے والی ماہانہ بچت کو ہی الیکٹرک بائیک کی آسان قسط کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے صارف پر کوئی اضافی مالی بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔ اس طرح حکومتی اقدامات سے عوام کو براہ راست ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب عوام کی طرف سے یہ سوال بھی زور شور سے سامنے آیا ہے کہ نئی آٹو پالیسی میں مہنگی اور بڑی گاڑیوں کے لیے سہولتوں اور الیکٹرک وہیکلز کے بنیادی ڈھانچے پر تو خصوصی توجہ دی جارہی ہے، لیکن ملک کی مجموعی گاڑیوں میں سب سے بڑا حصہ رکھنے والی موٹر سائیکلوں کے لیے کوئی واضح اور جامع پالیسی کیوں موجود نہیں۔

ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی منتقلی کے عمل کو صرف ایک عام ٹرانسپورٹ پالیسی کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے ملکی توانائی پالیسی کا بھی ایک اہم حصہ بنایا جانا چاہیے۔ کیونکہ الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے فروغ سے نہ صرف عام شہریوں کے سفری اخراجات میں کمی آ سکتی ہے بلکہ پیٹرول کی درآمد پر ملک کا انحصار بھی کم کرنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔