ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ خطے میں امن و استحکام یمن کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام سے وابستہ ہے، یمن کے مسائل کا حل محاصرے اور فوجی کشیدگی جاری رکھنے سے ممکن نہیں۔
یمن کے عوام کو دباؤ، دھمکیوں اور غیر انسانی محاصرے سے آزاد باعزت زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی عوام کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے ،صدر مسعود پزشکیان کا امریکا کو دوٹوک پیغام
ایرانی وزارت خارجہ نے یمن کے معاملے پر طے شدہ روڈ میپ کے تحت فوری طور پر مذاکرات بحال کرنے اور اس پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتےہوئے کہا کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے ہونے والی ہر مثبت کوشش میں ایران تعاون کے لیے تیار ہے۔
یاد رہے کہ یمن کے حوثیوں نے باب المندب میں واقع اسٹریٹجک اہمیت کے حامل جزیرے میون پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر انتہائی اہم سمندری تجارتی راستے پر اپنی گرفت مضبوط کرنا ہے۔
یمنی سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری فورسز باب المندب میں واقع جزیرے سے نکل گئی ہیں۔ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع مرکزی علاقے کے شہر ذباب پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔
یمنی سرکاری فوج نے کہا ہے کہ فضائیہ نے پہلے سے اعلان کردہ کِل باکس میں بمباری شروع کردی ہے، شہری تعزالمخا روڈ اور المخا ذباب روٹ استعمال کرنےسےگریز کریں۔
یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران جنگ پر افسوس سے صاف انکار، مڈٹرم انتخابات پر اثرات کی پرواہ نہیں
حوثی وزارت صحت کا کہناہے کہ 3 ستمبرسےاب تک سعودی قیادت کےحملوں میں 82 افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ گزشتہ روز یمن کی انصار اللہ تنظیم کے سینئر اہلکار محمد البخیتی نے دعویٰ کیا تھا کہ حوثیوں نے باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔




