وفاقی حکومت نے مقامی آٹو انڈسٹری میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور گاڑیوں کی برآمدات بڑھانے کے لیے ایک عرصے سے زیر التوا نئی آٹو پالیسی 2026-2031 کا حتمی مسودہ تیار کرکے منظوری کی غرض سے وزیراعظم کو بھجوا دیا ہے۔ اس حتمی مسودے کے منظر عام پر آنے کے بعد سامنے آنے والی تفصیلات سے معلوم ہوا ہے کہ پالیسی کے تحت مختلف کیٹیگریز کی ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد پر عائد ڈیوٹی میں مرحلہ وار بنیادوں پر نمایاں کمی کی اہم تجاویز شامل کی گئی ہیں۔
دستاویزات کے مطابق اس آٹو پالیسی میں 800 سی سی سے لے کر 1800 سی سی سے زائد انجن کی صلاحیت رکھنے والی تمام ہائبرڈ گاڑیوں پر عائد ڈیوٹی کو آئندہ پانچ سال کے دوران واضح طور پر کم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں 1801 سی سی سے زائد کی ہائبرڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی کو اگلے 5 سالوں میں مرحلہ وار بنیادوں پر کم کرتے ہوئے 30 فیصد تک لانے کی تیاری شروع کر دی گئی ہے، جس کے تحت اس کیٹیگری کی گاڑیوں کی درآمد پر آئندہ 5 سال میں ٹیکس میں مجموعی طور پر 20 فیصد کمی کی جائے گی، جبکہ 1501 سے 1800 سی سی تک کی ہائبرڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی کو مرحلہ وار 20 فیصد تک کم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نئی آٹو پالیسی؛ گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی متوقع
چھوٹی اور درمیانی ہائبرڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی کی شرح میں رعایت:
مسودے کے مطابق چھوٹی ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے بھی ڈیوٹی کے اندر بڑی رعایتیں دینے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 851 سے 1000 سی سی تک کی ہائبرڈ گاڑیوں پر عائد ڈیوٹی کو مرحلہ وار کم کر کے 30 فیصد کی سطح پر لانے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ اس کے ساتھ ہی 800 سی سی تک کی ہائبرڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی کی موجودہ شرح 50 فیصد کو آنے والے سالوں میں مرحلہ وار کم کرتے ہوئے 30 فیصد تک کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
کمرشل ہائبرڈ گاڑیوں، بسوں اور ٹرکوں کے لیے مجوزہ کٹوتیاں:
نئی آٹو پالیسی کا مسودہ صرف ذاتی اور عام استعمال کی گاڑیوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس میں کمرشل اور بھاری ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے بھی ڈیوٹی میں زبردست کمی کی تجاویز شامل ہیں۔ دستاویزات کے مطابق ہائبرڈ بسوں پر آئندہ 5 سال کی مدت کے دوران ڈیوٹی کو 30 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد پر لانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
پالیسی متن میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہائبرڈ ٹرکوں پر عائد ڈیوٹی کو بھی آئندہ 5 سالوں میں 30 فیصد سے گھٹا کر 15 فیصد تک لایا جا سکتا ہے، جب کہ ہائی لائٹ کمرشل گاڑیوں کی درآمد پر عائد کی جانے والی ڈیوٹی کو آئندہ 5 سال کی مدت میں 60 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد تک کرنے کی تجاویز مسودے کا حصہ بنائی گئی ہیں۔




