اقوام متحدہ کی ‘کریکٹ دا میپ’ قرارداد: تائید کے باوجود عالمی نقشے پر بھارت کا شدید اعتراض

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کیے گئے نئے عالمی نقشے میں اروناچل پردیش اور اکسائی چن کی نشاندہی کے بعد بھارت نے اس پر شدید اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے بے قاعدگی قرار دے دیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ دونوں علاقے بھارت کے اٹوٹ حصے ہیں اور نقشے میں ان کی موجودہ عکاسی نئی دہلی کے سرکاری مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتی، اسی لیے کسی بھی غلط یا گمراہ کن نقشہ سازی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

بھارت کی جانب سے یہ اعتراض اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 4 ستمبر کو ‘کریکٹ دا میپ’ کے عنوان سے منظور کی جانے والی قرارداد کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ بھارت نے اگرچہ اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا، تاہم نئی دہلی نے واضح کیا ہے کہ اس قرارداد کی حمایت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس نے اقوام متحدہ کے کسی مخصوص نقشے کی توثیق کی ہے۔

اقوام متحدہ کی قرارداد اور بھارتی مؤقف کی وضاحت:

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق بھارت نے مساوی رقبے کی بنیاد پر نقشہ سازی کے اصول کی تائید کی ہے، لیکن اس کی حمایت کو کسی مخصوص نقشے کی منظوری قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کی حمایت کرتے وقت ہی بھارت نے اپنے مؤقف کی مکمل وضاحت کر دی تھی، کیونکہ قرارداد کا بنیادی مقصد صرف دنیا کے مختلف خطوں کو ان کے حقیقی رقبے کے قریب تر دکھانے والے نقشوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اقوامِ متحدہ میں افریقہ کے حقیقی رقبے کی عکاسی کے لیے دنیا کا نیا نقشہ منظور

اروناچل پردیش، اکسائی چن اور جموں و کشمیر کا نقشہ:

اقوام متحدہ کے نئے نقشے میں اروناچل پردیش کو ایک الگ خطے کے طور پر دکھایا گیا ہے اور ناگالینڈ کے ساتھ اس کی سرحد بھی ظاہر نہیں کی گئی، جبکہ اکسائی چن کو بھی جداگانہ خطے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ بھارت اکسائی چن کو لداخ کا حصہ قرار دیتا ہے جو کہ اس وقت چین کے کنٹرول میں ہے۔ اگرچہ اقوام متحدہ نے ان نشاندہیوں کی کوئی واضح وضاحت جاری نہیں کی، تاہم نقشے میں جموں و کشمیر کے حوالے سے لائن آف کنٹرول کو نقطوں والی لکیر سے ظاہر کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ لکیر بھارت اور پاکستان کے درمیان طے شدہ لائن آف کنٹرول کی تقریباً نمائندگی کرتی ہے، کیونکہ جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت پر دونوں ممالک میں اتفاق نہیں ہوا۔ بھارت نے مطالبہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ سمیت تمام علاقوں کی عکاسی اس کے سرکاری مؤقف کے مطابق ہونی چاہیے۔

‘کریکٹ دا میپ’ کا پس منظر اور مرکٹر پروجیکشن:

اقوام متحدہ کی ‘کریکٹ دا میپ’ قرارداد کا اصل مقصد 1569 میں تیار کردہ روایتی مرکٹر پروجیکشن کے بجائے ایسے نقشوں کو فروغ دینا ہے جو خطوں کے حقیقی رقبے کو زیادہ درست انداز میں دکھائیں۔ مرکٹر نقشے میں قطبی علاقوں کا حجم حقیقی رقبے سے کہیں بڑا اور خط استوا کے قریب علاقوں کا حجم کم نظر آتا ہے۔ اس کے برعکس 2018 میں متعارف کرایا گیا مساوی رقبۂ ارضی نقشہ سازی کا نظام واقعی رقبے کی درست عکاسی کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کی نئی قرارداد اسی اصول کی عالمی سطح پر حوصلہ افزائی کرتی ہے، تاہم یہ کسی ملک کی سرحدی یا علاقائی حیثیت کا فیصلہ نہیں کرتی۔

مزید پڑھیں: بھارت کو جھٹکا:اقوامِ متحدہ کے نئے نقشے میں اروناچل پردیش الگ ریاست قرار