نئی آٹو پالیسی؛ گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی متوقع

(کشمیر ڈیجیٹل)حکومت نئی آٹو پالیسی کے ذریعے عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات تیز کر رہی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی قیمتیں کم کرنا ہے۔

حکام کے مطابق نئی آٹو پالیسی جلد سامنے آنے کی توقع ہے، جس میں آٹو سیکٹر پر عائد اضافی کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کی تجاویز شامل ہیں۔ نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت مختلف مراحل میں ڈیوٹی کم کی جائے گی تاکہ درآمدی اور مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں کی قیمتیں نیچے آ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیوٹا کمپنی کا مشہور زمانہ گاڑی فورچیونر کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان

پالیسی میں ماحول دوست گاڑیوں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ بیٹری الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کے فروغ کے لیے ان کے پارٹس پر کسٹم ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کم کر کے 9 فیصد کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

مزید تجاویز کے مطابق آٹو پارٹس پر کسٹم ڈیوٹی 5 فیصد رکھنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ اسمبلڈ یونٹس پر 10 فیصد ڈیوٹی تجویز کی گئی ہے۔ اسی طرح سی کے ڈی کٹس پر بھی 5 سے 10 فیصد کے درمیان ڈیوٹی عائد کرنے کی بات کی جا رہی ہے، تاکہ قیمتوں میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔

اس کے علاوہ الیکٹرک بائیکس اور رکشوں کو بعض ڈیوٹی شرائط سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجویز بھی شامل ہے، جس سے متبادل ٹرانسپورٹ کے استعمال کو فروغ مل سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی نئی آٹو پالیسی: کیا عام پاکستانی کا گاڑی خریدنے کا خواب پورا ہو پائے گا؟

حکومتی حکمت عملی کے تحت مقامی طور پر تیار ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے درآمدی گاڑیوں پر ٹیرف میں مرحلہ وار کمی کی جائے گی تاکہ ایک طرف مقامی صنعت کو فائدہ ہو اور دوسری جانب عوام کو سستی ٹرانسپورٹ میسر آ سکے۔

Scroll to Top