اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان جیسی طبی سہولیات اور دیگر مراعات کی فراہمی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔ درخواست گزاروں نے آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کا تقاضا کرتے ہوئے شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے اور واٹس ایپ پر بیرونِ ملک بات کروانے کی استدعا کی ہے، جس پر عدالت نے اپیلوں کو باقاعدہ نمبر الاٹ کر دیے ہیں۔
اڈیالہ جیل میں قید 3 اسیران نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو اپیل کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا ہے جس میں انہیں وی آئی پی طبی سہولیات سے محروم رکھا گیا تھا، اور آئینی عدالت نے معاملے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تینوں قیدیوں کی اپیلوں کو الگ الگ نمبر الاٹ کر دیے ہیں۔ پہلی اپیل کو 2050/2026 نمبر، دوسری اپیل کو 2051/2026 نمبر جبکہ تیسری اپیل کو 2052/2026 نمبر الاٹ کیا گیا ہے، جس کے بعد آئینی نقطہ نظر سے اس مقدمے کی باقاعدہ سماعت کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
آئین کے آرٹیکل 25 کا حوالہ اور طبی مطالبات
درخواست گزاروں نے اپنی اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 25 تمام شہریوں کے ساتھ بغیر کسی تفریق کے یکساں سلوک اور قانون کے مساوی تحفظ کا پابند بناتا ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ سپریم کورٹ کا 18 اگست کا حکم اب بھی نافذ العمل ہے جس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ابابیل ہاؤس پر پولیس کا چھاپہ: سابق ایم پی اے اعجاز خان جازی گرفتار
قیدیوں نے استدعا کی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اور اسی عدالتی حکم کے تناظر میں ان کا علاج بھی شفا انٹرنیشنل سے کروایا جائے، جبکہ اس کے علاوہ بانی پی ٹی آئی کی طرز پر واٹس ایپ کے ذریعے بیرونِ ملک اپنے اہل خانہ سے بات کرنے کی اجازت دینے کا حکم جاری کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔
قانون کی مساوات اور جیلوں کا دوہرا معیار
روایتی طور پر جیلوں میں بند عام قیدیوں کو معیاری طبی سہولیات کی عدم دستیابی اور علاج کے لیے بڑے اسپتالوں میں منتقلی میں شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے، جبکہ دوسری جانب ہائی پروفائل سیاسی شخصیات کو عدالتوں کے ذریعے اکثر نجی و عصری اسپتالوں میں منتقل کیا جاتا رہا ہے۔ اس سے قبل مذکورہ قیدیوں نے یکساں سہولیات کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، تاہم وہاں سے ریلیف نہ ملنے کے بعد اب انہوں نے آئینی حقوق اور یکساں قانون کا سہارا لے کر اس معاملے کو وفاقی آئینی عدالت کے سامنے اٹھایا ہے۔
واضح رہے کہ یہ درخواست بنیادی حقوق اور آئینی مساوات کے لحاظ سے ایک انتہائی دلچسپ قانونی نظیر قائم کر سکتی ہے، کیونکہ آئین کا آرٹیکل 25 ہر شہری کو برابر حقوق دیتا ہے لیکن عملاً جیل انتظامیہ قیدیوں کی نوعیت اور سیکیورٹی پروفائل کے مطابق سہولیات کا تعین کرتی ہے۔




