معروف صحافی، کالم نگار اور یوٹیوب اینکر محمد بلال غوری کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی شکایت پر اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد ان کے اہل خانہ نے تھانہ شالیمار میں باقاعدہ تحریری درخواست جمع کرا دی ہے، تاہم تاحال سرکاری سطح پر اس گرفتاری کی وجوہات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری پوسٹوں اور اہل خانہ و ساتھی صحافیوں کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق 6 ستمبر 2026ء کو اسلام آباد کے سیکٹر ای-11 میں واقع اپنی رہائش گاہ کے گراؤنڈ فلور پر موجود دفتر سے بلال غوری رات تقریباً 2 بجے کے بعد سے غائب ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ حراست میں لیے جانے کے وقت وہ اپنا پرس اور روزمرہ استعمال کی عینک بھی ساتھ نہیں لے جا سکے۔ واقعے کے فوراً بعد ان کی اہلیہ نے سوشل میڈیا پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام اور عوام سے مدد کی اپیل کی ہے، جبکہ اہل خانہ نے قانونی چارہ جوئی کا آغاز کرتے ہوئے تھانہ شالیمار میں تحریری درخواست جمع کرا دی ہے۔
این سی سی آئی اے کا کردار اور پیکا ایکٹ
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بلال غوری کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے درج کی گئی کسی شکایت کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ نئی ایجنسی حال ہی میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کی جگہ قائم کی گئی ہے، جس کا بنیادی دائرہ کار پیکا ایکٹ کے تحت ہتکِ عزت اور سائبر جرائم کی روک تھام اور عوام کو سائبر جرائم سے محفوظ رکھنا ہے۔ اگرچہ ایجنسی یا کسی دوسرے سرکاری ادارے کی جانب سے گرفتاری کا باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں ان کے وی لاگز یا تحریروں کی بنیاد پر پیکا ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا ہے، کیونکہ بلال غوری کا شمار ان صحافیوں میں ہوتا ہے جو قومی اداروں کے حساس معاملات کو مسلسل حرفِ تنقید بناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: طویل عرصے سے روپوش پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر ملتان سے گرفتار، لاہور پولیس کے حوالے
سابقہ واقعات اور ماضی کا پس منظر
بلال غوری کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے حراست میں لیا جانا کوئی نیا واقعہ نہیں۔ ان کی اہلیہ اور ساتھی صحافی موجودہ گرفتاری کو فروری 2026ء کے اس واقعے سے جوڑ رہے ہیں جب 7 اور 8 فروری کی درمیانی شب انہیں کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام نے اس وقت روک لیا تھا جب وہ بنگلہ دیش کے عام انتخابات کی کوریج کے لیے ڈھاکہ جا رہے تھے۔ اس وقت معلوم ہوا تھا کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) یا پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہے۔ تقریباً 15 گھنٹے کی حراست کے بعد انہیں رہا کیا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اسے ‘تکنیکی غلطی’ قرار دیا تھا۔ اس سے قبل 2021ء میں بھی ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے انہیں یوٹیوب ویڈیوز میں مبینہ طور پر ریاستی اداروں پر تنقید اور ہتکِ عزت کے الزامات کے تحت طلب کیا تھا۔




