دفتر خارجہ پاکستان نے نارووال کے نواحی علاقے اڈا سراج میں واقع صدیوں پرانے ہندو مندر کو گرائے جانے سے متعلق بھارتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مندر کی عمارت کو موسلا دھار بارشوں کے باعث نقصان پہنچا اور بھارتی پروپیگنڈا حقائق کے منافی ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نارووال مندر کے حوالے سے بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔
ان کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے کیا جانے والا دعویٰ جھوٹ پر مبنی اور سیاسی مقاصد کیلئے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ اڈا سراج میں واقع قدیم مندر کی عمارت 21 جولائی کو ہونے والی شدید بارشوں کے باعث متاثر ہوئی تھی۔
مقامی انتظامیہ نے بارش سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لینے کے بعد مندر کی بحالی کیلئے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔
سجاد حیدر خان نے بھارتی رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا اور سستی سیاسی چالوں کا سہارا لینا افسوسناک ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:7 زبانوں پر عبور رکھنے والے سجاد حیدر نے ترجمان دفتر خارجہ کا چارج سنبھال لیا
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے حقائق مسخ کرنے کی ایسی کوششیں اپنے ملک میں اقلیتوں کیساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے عالمی توجہ نہیں ہٹا سکتیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ دنیا بھارت میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر ہونیوالے مبینہ حملوں سے بخوبی آگاہ ہے، جہاں ان کے بقول ہندوتوا نظریے کو اقلیتوں کیخلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی قیادت کو مسلمان، سکھ اور مسیحی برادریوں کے خلاف مبینہ مظالم پر جوابدہ ہونا چاہیے۔
دوسری جانب پنجاب کے وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا بھی اپنے ویڈیو بیان میں مندر کو گرائے جانے سے متعلق خبروں کو مسترد کرچکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود موقع پر جاکر صورتحال کا جائزہ لیا اور معلوم ہوا کہ حالیہ موسلا دھار اور طوفانی بارشوں کے باعث مندر کی قدیم عمارت کا صرف ایک حصہ منہدم ہوا۔
صوبائی وزیر کے مطابق مندر کے ایک حصے کے بارش کے باعث گرنے کو کسی انسانی کارروائی سے جوڑنا حقائق کے برعکس ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:افغانستان سے مذاکرات کو تیار، ایران کیخلاف یکطرفہ پابندیوں پر عمل کے پابند نہیں، ترجمان دفتر خارجہ
انہوں نے واضح کیا کہ مندر کو نقصان قدرتی وجوہات، بالخصوص شدید بارشوں کے باعث پہنچا۔




