آزاد جموں و کشمیر میں نئی حکومت کے قیام کے بعد ریاست کے 3 اہم ترین آئینی عہدے ایسے سیاسی رہنماؤں کے پاس آ گئے ہیں جن کا تعلق قانون کے شعبے سے ہے۔ بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب ہو چکے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے چوہدری طارق فاروق قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر اور احمد رضا قادری ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے ہیں۔
تینوں شخصیات قانون کے شعبے سے وابستگی رکھنے کے ساتھ ساتھ عملی سیاست اور پارلیمانی امور کا بھی تجربہ رکھتی ہیں۔ ان تینوں شخصیات کی سیاسی موجودگی محض حالیہ انتخابات یا وکالت کے شعبے سے نکل کر اچانک اسمبلی تک پہنچنے کی کہانی نہیں، بلکہ تینوں کا سیاسی و پارلیمانی سفر مختلف مراحل سے گزر کر موجودہ اہم آئینی عہدوں تک پہنچا ہے۔
بیرسٹر افتخار گیلانی: عام نشست کی شکست سے وزارتِ عظمیٰ تک:
بیرسٹر افتخار گیلانی کا سیاسی سفر خاص طور پر منفرد ہے۔ وہ پہلی مرتبہ 2011 میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے، تاہم اس وقت آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ پھر 2016 کے انتخابات میں ایک بار پھر انہوں نے میدان مارا اور ن لیگ کی حکومت میں وزیر تعلیم بن گئے۔ یعنی موجودہ وزارت عظمیٰ ان کی سیاست میں پہلی بڑی پارلیمانی ذمہ داری نہیں بلکہ طویل سیاسی سفر کا اگلا مرحلہ ہے۔
حالیہ عام انتخابات میں افتخار گیلانی نے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر حلقہ ایل اے 29 مظفرآباد تین سے انتخاب لڑا، تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ پیپلز پارٹی کے سردار مختار خان نے 20 ہزار 45 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جبکہ افتخار گیلانی کو 16 ہزار 507 ووٹ ملے۔ تاہم عام نشست پر شکست ان کے سیاسی سفر کا اختتام ثابت نہیں ہوئی۔ مسلم لیگ (ن) نے انہیں ٹیکنوکریٹ نشست کے لیے نامزد کیا اور یوں وہ دوبارہ قانون ساز اسمبلی کا حصہ بن گئے، جس کے فوراً بعد پارٹی قیادت نے انہیں وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر سامنے لایا۔ 28 اگست کو ہونے والے انتخاب میں افتخار گیلانی نے 30 ووٹ حاصل کرکے پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار خان کو شکست دی، جنہیں 14 ووٹ ملے۔ یوں وہ آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم افتخار گیلانی کی زیرصدارت پہلا اجلاس، اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کا فیصلہ
چوہدری طارق فاروق: تجربہ کار سیاسی چہرہ:
چوہدری طارق فاروق بھی محض ایک نئے رکن اسمبلی کی حیثیت سے ایوان میں داخل ہونے والے سیاست دان نہیں ہیں۔ وہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے پارٹی سیاست میں ایک نمایاں مقام رکھتے رہے ہیں۔ چوہدری طارق فاروق 2016 سے 2021 تک مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں سینیئر وزیر رہے۔
حالیہ اسمبلی میں انہیں مسلم لیگ (ن) نے اسپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کیا اور انہوں نے پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری قاسم مجید کو شکست دے کر اسپیکر کا منصب سنبھال لیا۔ 25 اگست کو ہونے والے انتخاب میں طارق فاروق نے 32 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے چوہدری قاسم مجید کو 13 ووٹ ملے اور ایک ووٹ مسترد ہوا۔ انتخاب کے بعد انہوں نے حلف اٹھایا اور آئینی طور پر قائم مقام صدر کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔ طارق فاروق کا شمار مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے پرانے اور فعال سیاسی چہروں میں ہوتا ہے۔ ان کا سیاسی سفر اس نئی اسمبلی سے شروع نہیں ہوا بلکہ وہ اس سے قبل بھی ریاستی سیاست میں اہم ذمہ داریاں ادا کرتے رہے ہیں۔ یہی تجربہ موجودہ اسمبلی میں اسپیکر کے طور پر ان کے انتخاب کی ایک اہم وجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
احمد رضا قادری: ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر بھی تجربہ کار سیاسی شخصیت:
اسی طرح نومنتخب ڈپٹی اسپیکر احمد رضا قادری نے مہاجرین مقیم پاکستان کی نشست سے چوتھی مرتبہ کامیابی حاصل کی۔ نئی اسمبلی کی تشکیل کے بعد مسلم لیگ (ن) نے احمد رضا قادری کو ڈپٹی اسپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کیا۔ 25 اگست کو ہونے والے انتخاب میں انہوں نے 32 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی، جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار عامر غفار لون کو 14 ووٹ ملے۔
محض وکالت سے سیاست تک نہیں، سیاست سے آئینی مناصب تک سفر:
تینوں شخصیات کے موجودہ عہدوں کو اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو آزاد کشمیر کی نئی حکومتی تشکیل میں ایک دلچسپ تصویر سامنے آتی ہے۔ وزیراعظم افتخار گیلانی، اسپیکر چوہدری طارق فاروق اور ڈپٹی اسپیکر احمد رضا قادری قانون کے شعبے سے وابستگی رکھتے ہیں، لیکن ان کی موجودہ حیثیت صرف پیشہ ورانہ شناخت کا نتیجہ نہیں۔ ان تینوں نے وکالت کے ساتھ سیاست میں وقت گزارا، سیاسی جماعتوں کے اندر ذمہ داریاں ادا کیں، انتخابی میدان کا سامنا کیا اور پارلیمانی عمل کا حصہ بنے۔ افتخار گیلانی تو 2011 میں پہلی مرتبہ اسمبلی کا حصہ بننے کے بعد 2016 میں وزارت تعلیم تک پہنچے اور اب وزارت عظمیٰ سنبھال چکے ہیں۔
نئی قیادت کے سامنے بڑے چیلنجز:
اب اصل امتحان ان تینوں شخصیات کے لیے شروع ہو چکا ہے۔ وزیراعظم افتخار گیلانی کو حکومت چلانے کے ساتھ عوامی مسائل، انتظامی معاملات، مالی وسائل اور سیاسی اختلافات سے نمٹنا ہوگا۔ اسپیکر طارق فاروق کے لیے چیلنج یہ ہوگا کہ وہ حکومتی اکثریت کے باوجود ایوان کو غیر جانبدار انداز میں چلائیں اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان پارلیمانی توازن برقرار رکھیں۔
ڈپٹی اسپیکر احمد رضا قادری کو بھی اسمبلی کی کارروائی میں قواعد و ضوابط کی پابندی، ارکان کو مؤثر موقع فراہم کرنے اور ایوان کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ یوں آزاد کشمیر کی نئی اسمبلی میں وزیراعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر تینوں قانون کے پس منظر رکھنے والے اور پہلے سے سیاسی و پارلیمانی تجربہ رکھنے والے افراد ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ قانون کی باریکیاں، پارلیمانی تجربہ اور سیاسی وابستگی مل کر ریاستی طرزِ حکمرانی میں کس حد تک بہتری لاتے ہیں۔




