اسلام آباد: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی ایس پی) نے پروگرام کے تحت مستحق خواتین کے لیے مفت موبائل سمز حاصل کرنے کی آخری تاریخ 10 ستمبر 2026 مقرر کر دی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس تاریخ تک سیم حاصل نہ کرنے والی خواتین کی مالی امداد کی ادائیگی متاثر ہو سکتی ہے۔
بی ایس پی حکام کے مطابق پروگرام کے ذریعے مالی امداد حاصل کرنے والی تمام خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے قریبی بی ایس پی دفتر سے اپنی مفت سم وصول کریں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ جن مستحق خواتین نے ابھی تک اپنی مفت “بینظیر سم” حاصل نہیں کی ہے، انہیں بینظیر کفالت پروگرام کے تحت ملنے والی سہ ماہی قسط کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ بی ایس پی نے تمام اہل خواتین پر زور دیا ہے کہ وہ بلا تاخیر اپنے قریب ترین دفتر کا دورہ کریں تاکہ ان کی سہ ماہی مالی امداد کی بروقت اور شفاف ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
سم اور ڈیوائس کی تصدیق کا عمل:
حکام نے بتایا کہ مستحق خواتین کو اپنے ڈیوائس سے منسلک سیم کی تصدیق اور اجراء کا طریقہ کار بھی مکمل کرنا ہو گا۔ اس اہم اقدام کو “سم حاصل کریں، ادائیگی وصول کریں” کے اصول کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، جس مقصد کے تحت تمام مستفیدین کو 10 ستمبر کی آخری مہلت سے پہلے اس لازمی عمل کو مکمل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ بی ایس پی کی پہلے سے رجسٹرڈ خواتین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آخری تاریخ کا انتظار کرنے کے بجائے جلد از جلد اپنی مفت سیم حاصل کریں۔
یہ بھی پڑھیں: غریبوں کے نام پربینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں افسر شاہی کے مزے!
ای کچہری میں اہم ہدایات اور چیئرپرسن کا پیغام:
اس سے قبل، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے سم کارڈز کے استعمال اور اجراء سے متعلق اپنے مستفیدین کے لیے اہم ہدایات جاری کی تھیں۔ ایک ای کچہری سیشن کے دوران بی ایس پی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے ان اہل خواتین کو مشورہ دیا جو ابھی تک بی ایس پی دفتر سے مفت بینظیر سیم حاصل نہیں کر سکی ہیں یا دیگر ذرائع سے حاصل کردہ سیمز استعمال کر رہی ہیں، کہ وہ فوری طور پر بی ایس پی کے دفتر سے اپنی سرکاری سیمز وصول کریں۔
انہوں نے ہدایت کی کہ مستحق خواتین دفتر آتے وقت اپنا اصل قومی شناختی کارڈ اور ذاتی موبائل فون ساتھ لائیں۔ سینیٹر روبینہ خالد نے یہ بھی تاکید کی کہ سم کے وصولی کے وقت مجاز عملے سے ہی اسے موبائل میں انسٹال کروائیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب مالی امداد ڈیجیٹل والیٹ میں منتقل ہوگی تو متعلقہ بینک کی طرف سے ایس ایم ایس کے ذریعے اطلاع دی جائے گی، جبکہ رقم کے نکالنے کے بعد بھی ایک تصدیق کنندہ پیغام موصول ہوگا جس میں منتقل اور موصول شدہ رقم کی تفصیلات موجود ہوں گی جو ادائیگی کے ثبوت کے طور پر کام کریں گی۔
جعلسازی سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر:
بی ایس پی چیئرپرسن نے مستفیدین کو خبردار کیا کہ وہ اپنے موبائل فون کسی ایجنٹ کے حوالے نہ کریں، کیونکہ رقم وصول کرنے کے لیے صرف اصل شناختی کارڈ اور بائیومیٹرک تصدیق کی ضرورت ہوتی ہے اور نقد رقم نکالنے کے لیے موبائل فون کی حاجت نہیں ہوتی۔ انہوں نے خواتین کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ اپنا موبائل فون اور رجسٹرڈ نمبر ہمیشہ اپنے پاس رکھیں تاکہ کوئی ان کا ضروری پیغام یا معلومات حذف نہ کر سکے۔ حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بی ایس پی کی تمام خدمات اور ادائیگیاں بالکل مفت ہیں، لہذا تمام مستحقین کو دھوکہ دہی اور فراڈ سے مکمل ہوشیار رہنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام: رجسٹرڈ خواتین کے لیے اہم ہدایات جاری




