افتخار گیلانی وزیراعظم آزادکشمیر

Pakistan SCO Summit 2026

تحریر۔۔جمیلہ قاضی۔۔

تعلیم انسان میں شعور پیدا کرتی ہے۔اور جتنا علم اور تجربہ ہوتا ہے۔یہ انسان کو دوسرں سے ممتاز رکھتا ہے۔بیرسٹر افتخار گیلانی وزیر اعظم آزادکشمیر کی تعلیم بار ایٹ لاء قانون کی ڈگری ہے۔جو انہوں نے یو۔کے سے حاصل کی ہیں۔اس سے قبل بھی آزاد کشمیر میں چند گنے چنے لوگ ہوں گے۔جن کے پاس یہ ڈگری ہو۔۔اور جو اخباب بین الاقوامی اداروں میں پڑھتے ہیں۔ان کا وژن دوسرں سے بلند ہوتا ہے۔ہم کسی یونیورسٹی یا بڑی لیول کی کمپنی میں بھی اہم جاب یا اسائنمنٹ پر فارن کوالیفائیڈ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ تعلیمی اعتبار سے وزیراعظم آزاد کشمیر انتہائی پڑھے لکھےاور انتہائی خوبصورت شخصیت کے مالک ہیں۔اور سیاسی تجربہ سے دیکھا جائے۔تو 4 الیکشن لڑے۔پہلا الیکشن اس وقت لڑا ۔اور کامیابی حاصل کی۔جب پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔اور یہ الیکشن پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس نے مل کر لڑا تھا۔اس وقت وفاق کی طرف سے دباؤ اور مسلم کانفرنس جو اس وقت آج کی نسبت بہت بہتر تھی۔دونوں کا مقابلہ کیا۔اور انتظامی مشینری اور وفاقی دباؤ کے باوجود یہ الیکشن جیتا۔دوسری دفعہ الیکشن جیتا ۔

پھر وزارت تعلیم سکولز کے دوران کارکردگی سب کے سامنے ہے۔این ٹی ایس اور دیگر اہم نوعیت کی پروگریس۔۔۔جو آزادکشمیر میں این ٹی ایس محکمہ تعلیم میں پہلی دفعہ ہوا ہے۔جس سے ایک نوجوان نسل تیار ہوگئی۔اور 50 سالہ تعلیمی نظام پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔اور بغیر سفارش کے اساتذہ کی ایک لارڈ آئی ہے۔اس کا کریڈٹ بھی بیرسٹر سید افتخار گیلانی وزیراعظم آزادکشمیر کو جاتا ہے۔اور تاریخ میں ہمیشہ یہ بات یاد رکھی جائے گی۔پھر بلدیاتی انتخابات میں اپوزیشن میں ہونے کے باوجود۔دوسری جماعت کا وزیر اعظم ہونے کے باوجود۔۔۔۔بہت ہی اعلٰی پروگریس دکھائی ۔جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔۔مظفرآباد سٹی کا میئر ن۔لیگ کا بنا۔جس سے بلدیاتی نظام پر بہترین اثرات مرتب ہوئے۔اور ضلع کونسل میں بھی اچھی کارکردگی دکھائی
وزیراعظم آزاد کشمیر کا تعلق سیاسی ،،مذہبی ،،اور علمی گھرانے سے ہے۔محترمہ فاطمہ جناح مادر ملت ان کے گھر میں بطور مہمان آئی۔ دلیری اور بے باکی میں بھی کسی سے کم نہیں۔اکثر لوگ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں ۔لیکن عملی زندگی میں پرفارمنس نہیں دیتے۔یا دلیر نہیں ہوتے۔

بیرسٹر افتخار گیلانی وزیر اعظم آزادکشمیر پڑھے لکھے،،پریکٹیکل، ای وویٹو اور دلیر شخصیت کے مالک ہیں۔اور ان کا گھرانہ شروع ہی سے سیاسی گھرانہ رہا ہے۔اور انشاء اللہ آزادکشمیر کو میاں محمد نواز شریف کے ویژن کے مطابق ترقی کی طرف گامزن کرنے گے۔جس طرح پاکستان میں میاں محمد شہباز شریف وزیراعظم پاکستان اور پنجاب میں مریم نواز وزیر اعلٰی پنجاب کی قیادت ترقی ہو رہی ہے۔اسی سمت میں چلتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر ترقی اور خوشحالی کا سفر شروع کریں گے۔اور عام آدمی کو اس ترقی کے ثمرات ملیں گے۔وزیراعظم آزاد کشمیر نے انٹرنیٹ کی بحالی پر اپنا کیا ہوا وعدہ پورا کیا۔جو خوش آئند اور قابل تعریف ہے۔آزاد کشمیر کے اندر سیاحت کے شعبہ میں بہت پوٹینشل ہے۔اس کے ساتھ ساتھ 4 کی بجائے یہاں 6موسم ہیں۔اور زراعت کا بہت سکوپ ہے۔اور آف سیزن پروڈکشن بھی ہو سکتی ہے۔اس طرح لائیو سٹاک اور اینیمل ہسبنڈرری کے شعبہ میں اس خطہ کو خود کفیل اور خوشحال بنایا جاسکتا ہے۔اور پروگریسو کسانوں اور فارمز کو قرضہ جات کے ساتھ سے ساتھ ،سکلز اور رہنمائی دیکر اچھے نتائج حاصل کیئے جاسکتے ہیں۔اور پروگریسو کسانوں اورفارمز کو تعریفی سرٹیفکیٹس دیکر عام عوام کو اس طرف مرغوب کیا جاسکتا ہے۔محکمہ سماجی بہبود/سوشل ویلفیئر کو بین الاقوامی اور مقامی این جی اوز کے تعاون سے اس قابل بنایا جاسکتا ہیکہ وہ یہاں کے غریب عوام کی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کر سکے۔اور درست ڈیٹا مرتب کرکے حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست کی طرف بڑھ سکے۔

اس کیلئے ضروری ہیکہ ڈسٹرکٹ کی سطح پر محکمہ سوشل ویلفیئر درست ڈیٹا مرتب کرکے سٹیٹ لیول تک لے جائے ۔تاکہ ایک طرف اور لیپنگ سے بچا جاسکتا ہے۔تو دوسری طرف زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس کے فوائد سے استفادہ کرنے کا موقع دیا جاسکتا ہے۔ریاست کے پسے ہوئے اور غریب طبقے کو صرف عارضی ریلیف کی بجائے ہنرمندی اور پروڈکٹیویٹی کی طرف لگا کر انکم میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔محکمہ ٹیوٹا دیگر محکموں سماجی بہبود اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے ساتھ ملکر اس ہنر مندی اور پروڈکٹیویٹی کو احسن طریقے سے حل کر سکتا ہے۔آزاد کشمیر کے اندر کام کرنے والے سماجی ادارے جو مقامی ہوں یا بین الاقوامی ان کے اندر لیزان اور خصوصاً حکومت کے ساتھ لیزان کی کمی ہے۔جس کا نقصان یہ ہورہا ہیکہ ایک علاقہ میں دو سے تین سماجی ادارے کام کرتے ہیں۔تو دوسرے جگہ ایک بھی ادارہ نہیں ہے۔محکمہ سوشل ویلفیئر اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے کوارڈینیشن سے اس میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔

آزاد کشمیر کے اندر مختلف فارن فنڈڈ پراجیکٹ آئے۔اور پھر آزاد کشمیر رولرسپورٹ پروگرام/ اے جے کے آر ایس پی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔یہ ادارہ پاکستان میں موجود این آر ایس پی اور دوسرے اداروں کی طرح پراگریس نہیں دے سکا۔اور تباہی کے دہانے پرہے۔ پیپلز پارٹی کے 5سالہ دور میں اس ادارے کے اندر بہت سی مالی بے ضابطگیاں سامنے آئی۔وزیراعظم آزاد کشمیر اس ادارے کی ری آرگنائزیشن کرکے اس ادارے کے ذریعے جابز اور عوامی فلاح و بہبود کے حوالے سے پیش قدمی کی جاسکتی ہے ۔اور اس ادارے کو بین الاقوامی ڈونرز اور آزاد کشمیر کے دوسرے اداروں اور سرکاری اداروں کی کوارڈینیشن سے بہت بہتری کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔اس ادارے نے غربت میں کمی کے لئے اپنا کردار ادا کرنا تھا۔اس ادارے کو حکومت آزاد کشمیر کی طرف سے فنڈز بھی دیئے گئے۔اور محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے پروگرام/پراجیکٹ آزاد جموں و کشمیر کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام جو ایک فارن فنڈنگ پراجیکٹ تھا۔اس کے اثاثہ جات بھی دیئے گئے۔لیکن کارکردگی میں اس ادارے نے صفر بھی نہیں توڑا۔اس کے ساتھ ساتھ ازاد کشمیر میں ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کو دیگر مقامی اداروں، حکومتی محکموں جس نے محکمہ شہری دفاع اور دیگر محکموں کے لیزان سے بہتری کی طرف لے جایا جاسکتا ہے۔

آزاد کشمیر پبلک سروس کمیشن بہتر کام کررہا ہے۔جس نے اس وقت سی ایس ایس لیول کی کچھ اینوویشن کی ہیں۔اس کو مزید بہتر کیا جاسکتا ہے۔ایک اور اہم مسئلہ کمپیوٹرائز ڈیٹا کا ہے۔جو ہر محکمہ کا مسئلہ ہے۔اس پر فوکس کر کے عوام کیلئے آسانیاں پیدا کی جاسکتی ہیں ۔بلدیاتی نظام آزاد کشمیر کے اندر موجود ہے۔اس کو بہتر طریقے سے منظم کرکے مقامی سطح پر لوگوں کے بہت سے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں۔اور آزاد کشمیر کے اندر سماجی اداروں،محکمہ سوشل ویلفیئر اور دیگر محکموں سے بلدیاتی نمائندوں کا لیزان بہتر کر کے ہم گاؤں اور محلہ کی سطح پر بہت سے مسائل حل کرسکتے ہیں اور بلدیاتی نمائندوں کی فنڈنگ کو بڑھا کر مزید بہتری لائی جاسکتی ہے۔

پوری دنیا میں اس وقت آلودگی کے مسائل ہیں۔اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی سے اس خطہ کا حسن ماند پڑرہا ہے۔اور مختلف ٹھیکدار اپنی یادوستوں کے زمینی رقبہ جات ظاہر کرکے لائیسنس لیتے ہیں ۔اور پھر جنگ کی بے دریغ کٹائی کرتے ہیں ۔اس پر مکمل پابندی لگا کر ہم ریاست کے حسن کو دوبالا کرسکتے ہیں ۔محکمہ صحت کے اندر ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔یہاں پر مافیا کا راج ہے۔اور میڈیسن کمپنیاں اپنی ادویات کی زیادہ سے زیادہ فروحت کے سلسلہ میں ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹرز کے ساتھ ملکر عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔ماضی میں جعلی ادویات اور ایکسپائر ادویات کے بہت سے سکینڈل سامنے آئے۔اور خصوصا دیہاتوں میں جعلی اور ایکسپائر ادویات زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔اور اس کے ساتھ ساتھ محکمہ ہیلتھ کے ڈاکٹرز کو پرائیویٹ کلینک چلانے اور ان کلینکس پر جاب کرنے پر مکمل پابندی لگا کر ہم بہتری کی طرف جاسکتے ہیں۔

آزاد کشمیر کے اندر اس وقت بہت سی کمپنیاں ادویات فروخت کر رہی ہیں۔ان کے معیار کو چیک کرکے ہم عام آدمی کی صحت کی بہتری کی طرف جاسکتے ہیں۔اور ایک بہترین حل یہ ہیکہ صرف دو تین معیاری کمپنیوں کو ہی ادویات فروخت کرنے کا آزاد کشمیر کے اندر لائنسنس دیا جائے۔انشاءاللہ پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے اندر میاں محمد نواز شریف کے ویژن کے مطابق ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گی ۔جو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا ۔

Pakistan SCO Summit 2026