کینیڈا نے ہیلتھ کیئر اور دیگر اہم شعبوں میں افرادی قوت کے بحران پر قابو پانے کے لیے عالمی سطح پر امیگریشن کے نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
کینیڈین حکومت کے اس اقدام کے بعد دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان میں موجود ڈاکٹرز، نرسنگ سٹاف، فارماسسٹس اور تکنیکی ماہرین کے لیے بھی کینیڈا منتقل ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد دنیا بھر سے باصلاحیت اور پیشہ ور افراد کو راغب کر کے کینیڈا کی اہم ترین عوامی خدمات کو مزید مضبوط بنانا ہےتاہم یہاں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں موجود طبی و دیگر عملہ اس سے کیسے مستفید ہو سکتا ہے اور کینیڈا کی جانب سے مزید کیا شرائط سامنے آتی ہیں؟
یہ بھی پڑھیں:کینیڈا سے تجارتی تنازع میں شدت، ٹرمپ نے جھیل اونٹاریو کا نام بدل دیا
اس نئی پالیسی کے تحت کینیڈین محکمہ امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ نے ہیلتھ کیئر اور سوشل سروسز سمیت سائنس، ٹیکنالوجی، حرفتی علوم (تکنیکی اور صنعتی علوم) اور تعلیم کے شعبوں کو ترجیحی فہرست میں شامل کیا ہے۔
وہ تمام پاکستانی پیشہ ور افراد جو متعلقہ تعلیمی اسناد، تربیت اور عملی تجربہ رکھتے ہیں، کینیڈا کے مخصوص امیگریشن راستوں کے ذریعے تیز ترین عمل کے تحت ویزہ اور مستقل رہائش حاصل کر سکتے ہیں۔
اس منصوبے کی تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ مواقع طبی اور سوشل ورک سے وابستہ افراد کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ جن پیشوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ان میں نرس پریکٹیشنرز، ڈینٹسٹ، فارماسسٹ، سائیکالوجسٹ، سوشل ورکرز اور لیبارٹری ٹیکنالوجسٹ شامل ہیں۔
کینیڈا میں آبادی کی عمر میں اضافے اور طبی نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث ان شعبوں میں مقامی سطح پر ضرورت کے مطابق افراد میسر نہیں ہیں، جس کے باعث غیر ملکی ماہرین کے لیے دروازے کھولے گئے ہیں۔
کینیڈا کی اس خصوصی کیٹیگری بیسڈ سلیکشن کا حصہ بننے کے لیے امیدواروں کا ایک مقررہ معیار پر پورا اُترنا ضروری ہے۔
بنیادی معیار کے تحت درخواست گزار کے پاس گزشتہ تین برسوں کے دوران متعلقہ ترجیحی شعبے میں کم سے کم ایک سال کا مسلسل کام کرنے کا تجربہ ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:کینیڈا میں ملازمتوں کی بھرمار :بیروزگاری کم ترین سطح پرآگئی
اس کے علاوہ انگریزی زبان کے مستند ٹیسٹ یا فرانسیسی زبان میں مطلوبہ بینڈز کا حصول اور کینیڈین معیار کے مطابق تعلیمی اسناد کی تصدیق لازمی پیشگی شرائط میں شامل ہیں۔
پاکستانی پروفیشنلز کے لیے اس پالیسی کا سب سے بڑا فائدہ ایکسپریس اینٹری کے عام نظام کی نسبت ’کم کٹ آف سکور‘ پر دعوت نامہ ملنا ہے۔
کینیڈین محکمہ امیگریشن کے مطابق ’عام امیگریشن ڈراز میں پوائنٹس کی حد بہت زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث بیرونِ ملک موجود افراد کے لیے انتخاب مشکل ہو جاتا ہے۔’تاہم اس مخصوص زُمرے کے تحت کم پوائنٹس رکھنے والے ڈگری ہولڈرز کو بھی براہِ راست کینیڈا کی مستقل رہائش کی پیش کش کی جا رہی ہے۔
مزید برآں یہ ویزہ درخواست دہندہ کو اپنے خاندان سمیت کینیڈا منتقل ہونے، مفت علاج معالجے اور بچوں کی مفت تعلیم جیسی تمام تر سرکاری سہولیات سے استفادہ کرنے کا حق دیتا ہےتاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ کینیڈا کے مختلف صوبوں میں کئی پیشے، بالخصوص ہیلتھ کیئر کے شعبے، باقاعدہ قانون کے تحت منظم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کینیڈا کا امریکی مصنوعات پر 50فیصد تک جوابی ٹیرف عائد کر نے کا اعلان
اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی ڈاکٹروں یا نرسوں کو کینیڈا پہنچ کر یا وہاں کام شروع کرنے سے پہلے متعلقہ صوبائی میڈیکل یا نرسنگ کونسل سے اپنی اسناد کا جائزہ کروا کر مقامی لائسنس حاصل کرنا ہو گا۔
امیدوار کینیڈا کے سرکاری پورٹل اور ’جاب بینک‘ کے ذریعے لائسنسنگ کی تفصیلی معلومات اور بین الاقوامی ملازمین کو سپانسر کرنے والے اداروں کی فہرستیں دیکھ سکتے ہیں۔




