مظفرآباد میں آل آزاد کشمیر وکلا کانفرنس کا آغاز، انٹرنیٹ بحالی، عدلیہ کی آزادی اور ڈیجیٹل حقوق پر اہم مطالبہ

دارالحکومت مظفرآباد میں سینٹرل بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام آل آزاد کشمیر وکلا کانفرنس کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس میں آزاد جموں و کشمیر بھر سے وکلا برادری، آئینی ماہرین اور بار ایسوسی ایشنز کے نمائندگان کی بڑی تعداد شریک ہے۔

کانفرنس کے دوران آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال، انٹرنیٹ کی طویل بندش، ڈیجیٹل حقوق، عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی سمیت متعدد اہم آئینی و قانونی معاملات کو زیرِ بحث لایا جا رہا ہے۔ وکلا رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں آئین و قانون کی بالادستی، شہری آزادیوں اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے وکلا برادری کو ہر محاذ پر اپنا مؤثر اور فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیرِ اعظم آزاد کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی کا سیاسی سفر، این ٹی ایس کے نفاذ سے مسندِ وزارتِ عظمیٰ تک

آل آزاد کشمیر وکلا کانفرنس کے طے شدہ نمایاں موضوعات اور مطالبات میں خطے میں انٹرنیٹ سروس کی فوری بحالی، شہریوں کے ڈیجیٹل حقوق اور آزادیِ اظہار کا تحفظ، نیز آزاد و غیر جانب دار عدلیہ کا قیام اور قانون کی حکمرانی کا استحکام شامل ہے، جبکہ اس تاریخی کانفرنس کو “قانون کا احترام، حقوق کا تحفظ، عدلیہ کی آزادی” کے نعرے کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے۔

وکلا اتحاد اور آئندہ کا لائحہ عمل:

کانفرنس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس انعقاد کا بنیادی مقصد آزاد کشمیر بھر کی وکلا برادری کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا ہے تاکہ خطے میں آئین کی بالادستی، شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور مضبوط و بااختیار عدالتی نظام کے قیام کے لیے جاندار جدوجہد کی جا سکے۔