ایل این جی کی قیمتوں میں 27.71 فیصد تک کمی ، نوٹیفکیشن جاری

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی قیمتوں میں 27.71 فیصد تک بڑی کمی کردی اور قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

نئی قیمتوں کے تحت سوئی ناردرن کے لیے ایل این جی 6.81 ڈالر اور سوئی سدرن کے لیے 6.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سستی ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ، نوٹیفکیشن جاری

اس فیصلے کے بعد ملک کے دونوں اہم گیس تقسیم کار سسٹمز کے صارفین کو بڑا مالی ریلیف ملنے کا امکان ہے۔

اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کے سسٹم کے لیے ایل این جی کی قیمت میں 6.81 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی بڑی کمی کی گئی ہے، اس کٹوتی کے بعد سوئی ناردرن کے لیے ایل این جی کی نئی قیمت 19.03 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کر دی گئی ہے۔

اس سے قبل سوئی ناردرن کے سسٹم پر ایل این جی کی سابقہ قیمت 25.84 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی بلند سطح پر موجود تھی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی کے سسٹم کے لیے بھی ایل این جی کے نرخوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں قیمت میں 6.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی کمی کی گئی ہے۔

اس کمی کے نتیجے میں سوئی سدرن کے سسٹم پر ایل این جی کی نئی قیمت 18.13 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو طے ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:قطر کی ایل این جی کی پیداواری صلاحیت 5 سال کیلئے17فیصد تک ختم

اس سے قبل سوئی سدرن کے سسٹم کے لیے ایل این جی کی سابقہ قیمت 25.08 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ریکارڈ کی گئی تھی۔

پاکستان میں ایل این جی کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی میں ایندھن کے نرخوں اور درآمدی لاگت سے براہ راست منسلک ہوتا ہے۔ اوگرا ہر ماہ عالمی مارکیٹ میں ایندھن کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی سطح پر ایل این جی کی قیمتوں کا جائزہ لیتا ہے۔