مظفرآباد (محمد شبیر اعوان) پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے نامزد اُمیدوار بیرسٹر افتخار علی گیلانی 30 ووٹ حاصل کرکے آزاد جموں و کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے، ان کے مدمقابل پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد اُمیدوار سردار مختار احمد خان عباسی نے 14 ووٹ حاصل کیے۔
وزیراعظم کے انتخاب کیلئے قانون ساز اسمبلی کا اجلاس دوپہر 2 بجے منعقد ہوا، تاہم انتخابی عمل کا آغاز صبح ہی ہوگیا تھا۔ کاغذات نامزدگی صبح ساڑھے 9 بجے سے ساڑھے 10 بجے تک وصول کیے گئےجبکہ جانچ پڑتال، اُمیدواروں کی فہرست کی آویزاں اور دیگر ضروری مراحل دوپہر 12 بجے تک مکمل کرلیے گئے تھے، جس کے بعد دوپہر دو بجے ایوان میں وزیراعظم کے انتخاب کیلئے ووٹنگ ہوئی۔
اجلاس شروع ہونے سے قبل قانون ساز اسمبلی کا ماحول سیاسی سرگرمیوں سے گرم رہا۔ نامزد وزیراعظم بیرسٹر افتخار علی گیلانی نے ایوان میں موجود حکومتی اور اپوزیشن ارکان سے فرداً فرداً مصافحہ کیا اور ان کی نشستوں پر جاکر ملاقات کی۔
وہ اپنے سیاسی حریف اور وزیراعظم کے انتخاب میں پیپلز پارٹی کے نامزد اُمیدوار سردار مختار احمد خان عباسی کی نشست پر بھی گئے، ان سے مصافحہ کیا اور مختصر گفتگو کی۔
دوسری جانب سابق وزیراعظم آزاد کشمیر اور مسلم لیگ (ن) کے سابق صدر راجہ فاروق حیدر خان بھی ارکان اسمبلی کی توجہ کا مرکز رہے اور اجلاس شروع ہونے سے قبل بڑی تعداد میں حکومتی و اپوزیشن ارکان ان کے گرد جمع ہوکر ان سے گفتگو کرتے رہے۔
وزیراعظم کے انتخاب سے قبل مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار بیرسٹر افتخار گیلانی خود سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کی رہائش گاہ پر پہنچے، ان سے ملاقات کی اور انہیں اپنے ہمراہ گاڑی میں بٹھا کر اسمبلی لے کر آئے۔
راجہ فاروق حیدر خان نے بعد ازاں اسمبلی اجلاس میں شرکت کی اور وزیراعظم کے انتخاب میں بیرسٹر افتخار علی گیلانی کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کیا۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر اسمبلی اجلاس میں شریک نہ ہوسکے اور اپنا ووٹ استعمال نہیں کرسکے۔
حکمران اتحاد میں شامل عوامی دست و بازو پارٹی کے چیئرمین اور رکن اسمبلی شاہد اقبال عباسی بھی اجلاس میں موجود رہے اور انہوں نے بیرسٹر افتخار گیلانی کے حق میں ووٹ دیا۔ مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی سحرش قمر نے بھی انتہائی مشکل خاندانی حالات کے باوجود اسمبلی اجلاس میں شرکت کی۔
ان کے سسر شدید علیل اور وینٹی لیٹر پر تھے، تاہم وہ اسلام آباد سے مظفرآباد پہنچیں اور وزیراعظم کے انتخاب میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے بیرسٹر افتخار گیلانی کے حق میں ووٹ دیا۔
وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر قانون ساز اسمبلی کی مہمانوں کی گیلری بھی سیاسی و صحافتی شخصیات سے بھری رہی۔ وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ، طارق فضل چوہدری، سابق وزیر سردار نعیم خان سمیت پاکستان و آزاد کشمیر کے نامور صحافی، سیاسی و سماجی کارکنان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ بیرسٹر افتخار گیلانی کے انتخاب کے اعلان کے وقت گیلری میں موجود سیاسی رفقاء اور حامیوں میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بیرسٹر افتخار گیلانی کی بطور وزیراعظم نامزدگی ،عوام میں خوشی کی لہر
بیرسٹر افتخار علی گیلانی کا وزیراعظم منتخب ہونا آزاد کشمیر کے تقریباً نصف صدی پر محیط پارلیمانی سفر کی ایک نئی کڑی ہے۔ آزاد کشمیر میں 1970 کی اصلاحات کے ذریعے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر جمہوری عمل کا آغاز ہوا، تاہم اس وقت ریاست میں صدارتی نظام رائج تھا۔
1974 کے عبوری آئین کے نفاذ کے بعد آزاد کشمیر میں پارلیمانی نظام متعارف کرایا گیا، جس کے تحت صدر ریاست کا آئینی سربراہ جبکہ وزیراعظم حکومت کا انتظامی سربراہ قرار پایا۔ 1975 میں ہونے والے انتخابات کے بعد قانون ساز اسمبلی نے اپنے پہلے وزیراعظم کا انتخاب کیا اور خان عبدالحمید خان آزاد کشمیر کے پہلے وزیراعظم بنے۔
اس کے بعد سردار سکندر حیات خان، راجہ ممتاز حسین راٹھور، سردار عبدالقیوم خان، بیرسٹر سلطان محمود چوہدری، سردار عتیق احمد خان، سردار محمد یعقوب خان، راجہ فاروق حیدر خان، چوہدری عبدالمجید، سردار عبدالقیوم نیازی، سردار تنویر الیاس، چوہدری انوارالحق اور راجہ فیصل ممتاز راٹھور سمیت مختلف سیاسی شخصیات اس منصب پر فائز رہیں اور اب یہ پارلیمانی سفر بیرسٹر افتخار علی گیلانی تک پہنچ گیا ہے۔
بیرسٹر افتخار علی گیلانی 27 جولائی 1980 کو مظفرآباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اسلام آباد میں حاصل کی، بعد ازاں لندن کی SOAS یونیورسٹی سے بیچلرز کی ڈگری حاصل کی اور 2005 میں لنکنز اِن سے بار میں شامل ہوئے۔
2006 میں اسلام آباد میں بطور وکیل اندراج کرایا۔ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی سیاست میں ان کی نمایاں شناخت 2011 میں اس وقت بنی جب راجہ فاروق حیدر خان کی خالی کردہ نشست پر ضمنی انتخاب میں انہوں نے کامیابی حاصل کی۔ بعد ازاں انہیں وزیراعظم یوتھ بزنس لون پروگرام کا فوکل پرسن اور کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا جبکہ وہ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی منشور کمیٹی کا بھی حصہ رہے۔
2016 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد بیرسٹر افتخار گیلانی کو آزاد کشمیر کابینہ میں اعلیٰ و سکول ایجوکیشن کی وزارت دی گئی اور وہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے پانچ سالہ دور میں کابینہ کا حصہ رہے۔ 2021 کے انتخابات میں وہ اپنی نشست سے محروم ہوگئے ۔
تاہم 2026 کے انتخابات نے ان کے سیاسی سفر کو ایک مرتبہ پھر نئی سمت دی۔ وہ ٹیکنوکریٹ نشست پر کامیاب ہوئے اور بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے انہیں وزارت عظمیٰ کیلئے اپنا امیدوار نامزد کردیا۔
وزیراعظم کے انتخاب میں بیرسٹر افتخار گیلانی کی کامیابی اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ وہ ایک ایسے سیاسی سفر کے بعد اس منصب تک پہنچے ہیں جس میں کامیابی کے ساتھ شکست، اقتدار کے ایوانوں سے دوری اور دوبارہ سیاسی واپسی کے مراحل شامل رہے۔
آج وہ اسی قانون ساز اسمبلی میں قائد ایوان کی حیثیت سے موجود ہیں جہاں کبھی وہ ایک رکن اسمبلی اور وزیر کی حیثیت سے بیٹھتے رہے۔
بیرسٹر افتخار گیلانی کے سامنے اب سب سے بڑا چیلنج وزارت عظمیٰ کا منصب حاصل کرنا نہیں بلکہ اسے مؤثر حکمرانی اور عوامی خدمت میں تبدیل کرنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کو بجلی، سڑکوں، تعلیم، صحت، روزگار، مالی وسائل، انتظامی اصلاحات اور گورننس سمیت متعدد بنیادی مسائل کا سامنا ہے اور نئی حکومت سے عوام کی توقعات بھی غیر معمولی ہیں۔
1975 میں خان عبدالحمید خان سے شروع ہونے والی وزیراعظم کی پارلیمانی روایت مختلف سیاسی ادوار، حکومتوں اور سیاسی تبدیلیوں سے گزرتی ہوئی 2026 میں بیرسٹر افتخار علی گیلانی تک پہنچ گئی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مریم نواز کے ترقیاتی ویژن کو آزادکشمیر میں عملی شکل دیں گے، بیرسٹر افتخار گیلانی
30 ارکان کے اعتماد کے ساتھ قائد ایوان منتخب ہونے والے بیرسٹر افتخار گیلانی کیلئے اب اصل امتحان شروع ہوچکا ہے کہ وہ اس مینڈیٹ کو کس حد تک سیاسی استحکام، بہتر حکمرانی اور عوامی مسائل کے حل میں تبدیل کرتے ہیں۔




