مظفر آباد (کشمیر ڈیجیٹل) کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے نفرت انگیز بیانات پر کشمیری عوام کا شدید ردعمل،شہر یوں نے کہا کہ کالعدم تنظیم کا قبلہ درست کیا جائے، ریاست میں ترقی و خوشحالی کا راستہ امن وامان اور سیاسی استحکام ہے۔
تفصیلات کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے منسوب حالیہ بیانات پر آزاد کشمیر کے مختلف حلقوں اور شہریوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ریاست میں پائیدار ترقی، معاشی خوشحالی اور عوامی مسائل کے حل کیلئے امن و امان اور سیاسی استحکام بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، اس لیے تمام سیاسی و سماجی قوتوں کو ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔
شہریوں نے اپنے ردعمل میں کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام پہلے ہی مہنگائی، روزگار، بنیادی سہولیات اور معاشی مشکلات سمیت مختلف مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
ایسے حالات میں کسی بھی قسم کے اشتعال انگیز یا نفرت پر مبنی بیانات عوامی مسائل کے حل میں معاون ثابت نہیں ہو سکتے بلکہ اس سے معاشرے میں بے چینی اور تقسیم بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ سیاسی اور عوامی مطالبات کو آئینی، قانونی اور پُرامن طریقے سے سامنے لانا ہر شہری اور تنظیم کا حق ہے، تاہم اختلافِ رائے کو نفرت، اشتعال یا تصادم کی طرف لے جانے کے بجائے مکالمے اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما سردار امان کے خلاف تھانہ پلندری میں مقدمہ درج
ان کے مطابق ریاست میں سیاسی استحکام ہوگا تو حکومت، سیاسی جماعتیں، تاجر برادری اور سول سوسائٹی مل کر عوامی مسائل کے دیرپا حل کی جانب مؤثر پیش رفت کر سکیں گے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا کہ کالعدم تنظیم سے وابستہ عناصر اپنے طرزِ بیان اور سیاسی حکمتِ عملی پر نظرثانی کریں اور ایسے بیانات سے گریز کیا جائے جو معاشرے میں اشتعال یا بداعتمادی کو فروغ دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت کو بھی عوامی مسائل سننے اور ان کے حل کیلئے مؤثر اور نتیجہ خیز مکالمے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
شہری حلقوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں سیاحت، تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کے وسیع امکانات موجود ہیں، تاہم ان شعبوں کی ترقی کیلئے پُرامن ماحول ناگزیر ہے۔
ان کے مطابق سڑکوں، صحت، تعلیم، بجلی، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق عوامی مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے سے ہی عوام کا اعتماد بحال اور ریاست کی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی صرف سیاسی نعروں سے ممکن نہیں ہوتی بلکہ اس کیلئے امن، قانون کی بالادستی، سیاسی برداشت، ادارہ جاتی استحکام اور عوامی شمولیت ضروری ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:راولاکوٹ : کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی عوام دشمن غنڈہ گردی! بھاری درخت گرا کر سڑکیں بلاک کر دیں
تمام فریقین کو چاہیے کہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور عوام کو سیاسی کشیدگی کے بجائے ترقی اور خوشحالی کا ماحول فراہم کریں۔




