متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے ملازمت کیلئے جانے والے شہریوں کے ورک ویزا سے متعلق طریقہ کار میں اہم تبدیلی کردی ہے۔
نئے ضابطے کے تحت امارات کا ورک ویزا حاصل کرنے کے خواہشمند پاکستانی شہریوں کیلئے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ پیش کرنا لازمی ہوگا۔ مقررہ دستاویز کے بغیر ورک ویزا کی درخواست قابل قبول نہیں ہوگی۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق نئی شرط کا اطلاق 20 جولائی 2026 سے کردیا گیا ہے۔ اس کے تحت ورک ویزا کیلئے درخواست دینے والے پاکستانی شہریوں کو اپنے متعلقہ پولیس محکمے سے جاری کردہ پولیس کریکٹر یا گڈ کنڈکٹ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا، جس کے بعد اسے متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے سے تصدیق کرانا ضروری ہوگا۔
نئے طریقہ کار کے مطابق امارات میں ملازمت کے خواہشمند اُمیدوار سب سے پہلے اپنے علاقے کے متعلقہ پولیس دفتر سے کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کریں گے۔ پولیس کی جانب سے جاری ہونے والی اس دستاویز کو اس کے بعد اسلام آباد میں واقع متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے سے باقاعدہ طور پر تصدیق کروانا ہوگا۔
سفارتی تصدیق مکمل ہونے کے بعد ہی اُمیدوار دیگر مطلوبہ دستاویزات کے ہمراہ ورک ویزا کی درخواست جمع کرا سکے گا۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ درخواست جمع کروانے سے قبل تمام ضروری دفتری اور دستاویزی مراحل مکمل کرنا لازمی ہے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق اگر ورک ویزا کی درخواست کے ساتھ پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ موجود نہ ہو یا مطلوبہ سرٹیفکیٹ کی سفارتی تصدیق مکمل نہ کی گئی ہو تو درخواست مسترد کیے جانے کا امکان ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:افغانستان سے مذاکرات کو تیار، ایران کیخلاف یکطرفہ پابندیوں پر عمل کے پابند نہیں، ترجمان دفتر خارجہ
نئے قواعد پر عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے ملک بھر میں کام کرنیوالے تمام لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کو بھی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ انہیں پابند کیا گیا ہے کہ بیرون ملک ملازمت کے لیے امیدواروں کی درخواستیں آگے بھیجنے سے قبل ان کی تمام دستاویزات کی تکمیل، درستگی اور متعلقہ اداروں سے تصدیق کو یقینی بنائیں۔
حکام نے پاکستانی شہریوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کے ورک ویزاکیلئے درخواست جمع کروانے سے پہلے تمام مطلوبہ کاغذات مکمل رکھیں اور نئے طریقہ کار کے مطابق انکی ضروری تصدیق بھی کرالیں۔ دستاویزات میں کمی، غلطی یا مقررہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کی صورت میں ویزا درخواست مسترد ہوسکتی ہے۔
اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرزکیلئے بھی ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ اُمیدواروں کی دستاویزات جمع کروانے سے پہلے ان کی جانچ پڑتال کریں تاکہ کسی بھی ضروری کاغذ کی عدم موجودگی یا تصدیق نہ ہونے کے باعث ویزا کے عمل میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
متحدہ عرب امارات پاکستانی شہریوں کیلئے خلیجی ممالک میں روزگار کا ایک بڑا مرکز ہے۔ بڑی تعداد میں پاکستانی مختلف شعبوں میں ملازمت کیلئے امارات میں مقیم ہیں، جبکہ وہاں کام کرنے والے پاکستانی شہری ہر سال ملک میں قابلِ ذکر زرمبادلہ بھی بھیجتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ورک ویزا سے متعلق قواعد میں ہونے والی تبدیلیاں پاکستان سے بیرون ملک روزگار کے خواہشمند افراد کیلئے خاص اہمیت رکھتی ہیں۔
حالیہ عرصے میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے غیر ملکی کارکنوں کے ریکارڈ، دستاویزات کی شفافیت اور سکیورٹی سے متعلق جانچ پڑتال کے عمل پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ ورک ویزا کیلئے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کی شرط بھی اسی دستاویزی اور تصدیقی عمل کا حصہ قرار دی جارہی ہے۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ورک ویزا کیلئے درخواست دینے والے افراد کے ریکارڈ سے متعلق ضروری معلومات کی جانچ پڑتال اور دستاویزی عمل کو مزید منظم بنانا ہے۔ نئی شرط کے بعد پاکستانی شہریوں اور اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرزکیلئے ضروری ہوگا کہ وہ ورک ویزا کی درخواست تیار کرتے وقت پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ اور اس کی مطلوبہ تصدیق کو لازمی طور پر مدنظر رکھیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اپنا گھر بنانے کے خواہشمندوں کو حکومت نے بڑی خوشخبری سنا دی
نئے ضابطے پر عمل کرتے ہوئے تمام ضروری دستاویزات پہلے سے مکمل رکھنے سے اُمیدواروں کو ویزا درخواست کے دوران غیر ضروری تاخیر یا دستاویزات کی کمی کے باعث درخواست مسترد ہونے کے خطرے سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔




