مذاکرات پسپائی کی علامت نہیں بلکہ قومی مفادات کے تحفظ کا حصہ ہیں: باقر قالیباف

تہران : ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات پسپائی کی علامت نہیں بلکہ قومی مفادات کے تحفظ کی صورت میں مزاحمت کا ہی ایک حصہ ہیں۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق باقر قالیباف نے ایک کھل خط میں یہ مؤقف ایرانی روزنامہ کیہان کی جانب سے مذاکرات پر کی جانے والی تنقید کے جواب میں جاری کیا ہے۔ انہوں نے اپنے خط کے ذریعے جاری سفارتی عمل پر اٹھائے گئے تمام اعتراضات اور تنقید کا مفصل جواب دیا ہے۔

سفارتی عمل پر تنقید اور قالیباف کا مؤقف:

باقر قالیباف نے اپنے اس کھلے خط میں لکھا کہ کسی بھی دانشمندانہ اقدام، بااختیار مذاکرات یا دشمن سے قوم کے حقوق حاصل کرنے کی کوشش کو غلط طور پر سمجھوتہ اور بے عملی قرار نہیں دینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی سپریم لیڈر شدید زخمی ہیں،ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

انہوں نے کہا کہ ملک کی طاقت کے ذرائع کے تحفظ کی ذمہ داری اٹھانا ضروری ہے تاکہ جنگ کی کامیابیوں کو مستحکم کیا جا سکے اور دشمنوں کی جانب سے منصوبہ بندی کی گئی سنگین تباہ کاریوں سے ملک کو محفوظ طریقے سے نکالا جا سکے۔

قومی سلامتی اور مذاکراتی ٹیم کی کامیابی:

ایرانی پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے تحریر کردہ کھلے خط میں مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری سے فرار اختیار کرنا اور مذاکراتی ٹیم کی ہر کامیابی کو غداری قرار دینا بالکل درست نہیں ہے۔

انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ ملک و قوم کے مفاد میں اٹھائے گئے دانشمندانہ اقدامات اور دشمن سے تمام قانونی و قومی حقوق کی حاصل یابی کو منفی انداز میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اپنے اس تمام تر بیان سے یہ نتیجہ واضح کر دیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکراتی عمل دراصل ملک کو درپیش خطرناک و سنگین تباہ کاریوں سے محفوظ نکالنے اور قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے مزاحمت کو مستحکم رکھنے کا لازمی ذریعہ ہے۔