پمز سانحہ،بچوں کی میتیں ورثاء کے حوالے، وزیر صحت وسائل نہ ہونے کا رونا رونے لگے

اسلام آباد: پمز ہسپتال سانحہ میں جاں بحق 14 بچوں کی میتیں ورثاء کے حوالے کر دی گئیں جبکہ وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر مصطفی کمال وسائل نہ ہونے کا رونا لگے ہیں۔

بدھ کی صبح اسلام آباد کے پمز اسپتال کے گائنی وارڈ کی نرسری میں آگ لگنے سے 14 نومولود جھلس کر جاں بحق ہوگئے تھے۔ پمز اسپتال سانحے میں جاں بحق 14 بچوں کی میتیں ورثاء کے حوالے کر دی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:پمز اسپتال میں 14 نوزائیدہ بچے جاں بحق: سی ڈی اے کا انکشاف، ایمرجنسی ایگزٹ لاک تھے

اس دوران بعض ورثا نے احتجاج کرتے ہوئے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا مطالبہ کیا۔ لواحقین کا کہناہے کہ شناخت کیے بغیر ہی میتیں حوالے کر دی گئی ہیں۔

ادھرنجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پمز اسپتال میں 14 بچوں کی اموات حادثہ ہے ، احتساب ان سے شروع ہونا چاہیے، ہمارے پاس وسائل نہ ہونے کا بھی مسئلہ ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزیر اعظم سے فائر سیفٹی اور ٹریننگ سمیت کئی معاملات پر بات ہوئی ہے۔ہمارے پاس وسائل نہ ہونے کا بھی مسئلہ ہے، پمز اسپتال کا حادثہ انتظامی یونٹس سے متعلق ہمارے موقف کی تائید ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پمز اسپتال میں 14 بچوں کی اموات حادثہ ہے، وزیر اعظم یا وفاقی وزیر کا کام ہسپتال کو دیکھنا نہیں ہونا چاہیے۔

اس سے قبل وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز اسپتال کے باہر میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو بھی غلطی کا مرتکب ہوا اسے نہیں چھوڑیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:پمز اسپتال آتشزدگی کیس: وزیراعظم کا سخت اقدام، وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری عہدے سے برطرف

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے استعفا دینے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ احتساب کیلئے سب سے پہلے خود کو وزیراعظم کے آگے پیش کیا ہے، وزیراعظم میرے باس ہیں، وہ جو بھی فیصلہ کریں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا دوسرے دروازے پر گارڈ کی 24 گھنٹے ڈیوٹی ہے، اسی دروازے سے نومولود چوری ہوتے تھے، انخلا کے راستےمیں گارڈ کی ڈیوٹی ہے وہ 24 گھنٹے وہاں ہوتے ہیں، بچوں کے چوری ہونے کی وجہ سے ایک دروازے پرگارڈ کی تعیناتی تھی۔