آزاد جموں و کشمیر میں بہتر مستقبل اور روزگار کی امید میں نوجوان لاکھوں روپے خرچ کرکے بیرونِ ملک کا رخ کر رہے ہیں، تاہم بعض افراد مبینہ طور پر ایجنٹوں کے ہاتھوں دھوکا دہی کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس طرح کے واقعات کی وجہ سے کئی متاثرین اپنی جمع پونجی سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔
مظفرآباد کے علاقے دوچھور میرا سے تعلق رکھنے والے واجد قریشی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بیرونِ ملک روزگار کے حصول کے لیے ایک مقامی شخص کو 6 لاکھ روپے سے زائد رقم ادا کی اور قطر روانہ ہوئے۔ واجد قریشی کے مطابق قطر پہنچنے کے بعد انہیں وعدے کے مطابق کام فراہم نہیں کیا گیا اور تقریباً 15 روز بعد واپس پاکستان بھیج دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ: سرکاری ملازمین کی کم از کم تنخواہ 40 ہزار 7 سو روپے مقرر
متاثرہ نوجوان کی مالی مشکلات اور تحفظات:
متاثرہ نوجوان کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک بہتر مستقبل کی امید میں جمع پونجی خرچ کرنے کے باوجود نہ انہیں روزگار مل سکا اور نہ ہی رقم واپس کی گئی، جس کے باعث انہیں شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
ایجنٹوں کے ذریعے سفر پر سوالات اور اداروں سے مطالبہ:
یہ واقعہ بیرونِ ملک روزگار کے خواہشمند نوجوانوں کے لیے ایک اہم سوال بھی اٹھاتا ہے کہ وہ ایجنٹوں کے ذریعے سفر اور ملازمت کا معاہدہ کرنے سے قبل مکمل تصدیق کیوں نہ کریں، جبکہ متعلقہ اداروں سے بھی ایسے معاملات کی شفاف تحقیقات اور متاثرین کی داد رسی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔




