فرانس کی حکومت نے نئے تعلیمی سال کے آغاز سے ہائی اسکولوں میں طلبہ کے موبائل فون استعمال پر پابندی نافذ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد طلبہ کو اسکرین کے زیادہ استعمال سے دور رکھنا اور ان کی تعلیمی و ذہنی نشوونما بہتر بنانا ہے۔
صدر میکرون کا قانون نافذ کرنے کا فیصلہ
حکومت کے مطابق صدر ایمانوئل میکرون نے موبائل فون کے استعمال پر پابندی سے متعلق قانون نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ستمبر سے ہائی اسکولوں میں طلبہ کے موبائل فون استعمال پر پابندی عائد کردی جائے گی۔
طلبہ کی توجہ تعلیم پر مرکوز ہوگی
فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ موبائل فون کا ضرورت سے زیادہ استعمال طلبہ کی توجہ اور تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کرسکتا ہے۔ پابندی کا مقصد طلبہ کو اسکرین ٹائم کم کرنے اور تعلیمی سرگرمیوں پر زیادہ توجہ دینے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
اسکولوں کو نئے انتظامات کرنا ہوں گے
حکام کے مطابق پابندی پر عملدرآمد کے لیے اسکولوں کو اپنے داخلی قواعد میں ترمیم کرنا ہوگی۔ بعض تعلیمی اداروں میں طلبہ کے موبائل فون محفوظ رکھنے کے لیے لاکرز اور خصوصی پاؤچز کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔
پرنسپلز کو عملدرآمد میں مشکلات کا خدشہ
اسکول پرنسپلز کی یونین نے پابندی پر فوری عملدرآمد کے حوالے سے مشکلات کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ یونین کے مطابق متعدد اسکولوں کو تیاری کیلئے مناسب وقت نہیں ملا، جبکہ پابندی نافذ کرنے کیلئے ضروری انتظامات مکمل کرنے میں وقت درکار ہوگا۔
نئے تعلیمی سال سے نئے قواعد نافذ
فرانسیسی حکومت کا کہنا ہے کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی ہائی اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال سے متعلق نئے قواعد نافذ ہوجائیں گے۔ اسکول انتظامیہ کو پابندی پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے اپنے داخلی نظام میں ضروری تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بھارت میں کم نمبروں پر مشتعل طلبہ کا خاتون ٹیچر پر تشدد، ویڈیو وائرل




