آزاد کشمیر حکومت سازی: اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب آج، ن لیگ کی عددی پوزیشن مضبوط

آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات اور مخصوص نشستوں کے مرحلے کی تکمیل کے بعد نئی قانون ساز اسمبلی کی تشکیل کا اہم پارلیمانی عمل شروع ہو گیا ہے۔ 24 اگست کے افتتاحی اجلاس میں نومنتخب ارکان کی حلف برداری کے بعد آج 25 اگست کو اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا مرحلہ مکمل کیا جا رہا ہے۔

افتتاحی اجلاس میں اسپیکر چوہدری لطیف اکبر نے مجموعی طور پر 46 نومنتخب ارکان سے اسمبلی رکنیت کا حلف لیا، جس کے ساتھ ہی نئی آئینی و پارلیمانی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن آزاد کشمیر نے اپنی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کر رکھا ہے جس میں اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزیراعظم کے امیدواروں کے ناموں کی باضابطہ منظوری اور اعلان کیا جائے گا۔

اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا موصولہ شیڈول:

قانون ساز اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدوں کے لیے کاغذات نامزدگی 25 اگست کو صبح 10 بجے سے 11 بجے تک جمع کرائے جائیں گے۔ اس کے بعد 11 بج کر 15 منٹ پر کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل ہوگا، جبکہ امیدواروں کی ابتدائی فہرست 11 بج کر 30 منٹ پر جاری کی جائے گی۔ کاغذات واپس لینے کے لیے 11 بج کر 45 منٹ کا وقت مقرر ہے، جس کے بعد دوپہر 12 بجے امیدواروں کی فائنل فہرست شائع کر دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر 2بجےہو گا

شیڈول کے تحت دوپہر 2 بجے اسپیکر چوہدری لطیف اکبر کی صدارت میں اسمبلی کا اجلاس ہوگا جس میں نئے اسپیکر کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ اس کے بعد دوپہر 3 بجے اسمبلی سیکریٹریٹ میں ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا مرحلہ مکمل کیا جائے گا۔

ایوان کی کل ساخت اور موجودہ پارٹی پوزیشن:

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی مجموعی طور پر 53 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں سے 45 نشستوں پر براہ راست انتخاب ہوتا ہے جبکہ 8 نشستیں مخصوص ہیں۔ 45 براہ راست نشستوں میں سے 33 آزاد کشمیر کے ضلاعی حلقوں سے اور 12 پاکستان میں آباد کشمیری مہاجرین کے حلقوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ 8 مخصوص نشستوں میں خواتین کی 5، ٹیکنوکریٹ و پروفیشنل کی 1، علما و مشائخ کی 1 اور اوورسیز کشمیریوں کی 1 نشست شامل ہے۔

حالیہ عام انتخابات میں 45 میں سے 38 براہ راست نشستوں پر انتخابی عمل مکمل ہوا، جبکہ پونچھ ڈویژن کی 7 نشستوں پر انتخابات ملتوی ہونے کے باعث وہ حلقے فی الوقت خالی ہیں۔ مکمل ہونے والے نتائج میں مسلم لیگ ن نے 25 براہ راست نشستیں حاصل کیں، پاکستان پیپلز پارٹی 12 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، جبکہ عوامی دست و بازو کے ساجد اقبال عباسی 1 نشست پر کامیاب ہوئے۔ بعد ازاں ساجد اقبال عباسی نے مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد اور نئی حکومت کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

مخصوص نشستوں کا نتیجہ اور حکومتی اتحاد کی طاقت:

مخصوص نشستوں کے انتخاب میں بھی مسلم لیگ ن کو پیش قدمی حاصل ہوئی۔ اوورسیز کشمیریوں کی نشست پر ن لیگ کے عبدالرحمان آرائیں پہلے ہی بلا مقابلہ منتخب ہو چکے تھے۔ باقی 7 مخصوص نشستوں کے نتائج کے مطابق خواتین کی 5 میں سے 3 نشستیں مسلم لیگ ن کی مریم کشمیری، مریم ادریس اور سحرش قمر نے حاصل کیں، جبکہ 2 نشستوں پر پیپلز پارٹی کی فرزانہ یعقوب اور زوبیہ خورشید راجا کامیاب ہوئیں۔ ٹیکنوکریٹ اور علما و مشائخ کی دونوں نشستیں بھی مسلم لیگ ن کے حصے میں آئیں۔

مخصوص نشستوں کے بعد مسلم لیگ ن کے ارکان کی مجموعی تعداد 31 ہو گئی ہے اور پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 14 ہے۔ عوامی دست و بازو کے رکن ساجد اقبال عباسی کی حمایت شامل ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کے حکومتی اتحاد کی عددی طاقت 32 ارکان تک پہنچ گئی ہے، جس سے 53 کے ایوان میں اسے واضح اکثریت حاصل ہو چکی ہے۔ پونچھ ڈویژن کے 7 ملتوی شدہ حلقوں میں انتخاب کے بعد ایوان کے تمام 53 ارکان کا عمل مکمل ہو جائے گا۔

قیادت کی نامزدگیاں اور حکومت سازی کا حتمی مرحلہ:

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے پارٹی سیکریٹری جنرل چوہدری طارق فاروق کو اسپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کیا ہے، جس کے بعد پارٹی صدر شاہ غلام قادر کے وزیراعظم آزاد کشمیر کا امیدوار بننے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ان دونوں ناموں کی باقاعدہ اور حتمی توثیق آج ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کی جائے گی۔

ایوان میں عددی برتری کی وجہ سے مسلم لیگ ن کو اپنے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی کامیابی کا کامل یقین ہے، تاہم پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی ان عہدوں پر اپنے امیدوار سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے بعد حکومت سازی کا سب سے اہم مرحلہ یعنی وزیراعظم کا انتخاب 27 اگست کو ہونے کا امکان ہے، جس کے ساتھ ہی نئی حکومت کا قیام عمل میں آ جائے گا۔