نیویارک (کشمیر ڈیجیٹل)معروف امریکی جریدے فارن پالیسی ان فوکس (ایف پی آئی ایف) نے مکہ باہمی دفاعی معاہدے کو پاکستان کیلئے اسٹریٹجک وسعت، سفارتکاری اثر اور علاقائی توازن کا ذریعہ قرار دیدیا۔
ایف پی آئی ایف میں شائع ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ مکہ معاہدہ بدلتے مشرق وسطیٰ میں علاقائی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایکشن کمیٹی نئی حکومت کیلئے چیلنج، الیکشن میں پیپلزپارٹی کولیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دی گئی،فیصل راٹھور
امریکی صدر کی حمایت پاکستان کے واشنگٹن میں برقرار سفارتی وزن کی علامت ہے، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے خطے کے دفاع اور پائیدار امن میں تعمیری کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
معاہدے کو ایران مخالف اتحاد قرار دینا درست نہیں، بڑھتا ہوا بھارتی اسرائیلی اسٹریٹجک تعاون پاکستان کے لیے مکہ معاہدے کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حکومت کا 8 بڑے پاسپورٹ دفاتر کے اوقات کار میں اضافے کا اعلان
مکہ معاہدے میں دیگر علاقائی ممالک کے لیے شمولیت کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے، معاہدے کی اصل طاقت کسی سخت بلاک کے قیام کے بجائے شمولیتی اور لچکدار نوعیت میں ہے۔
جریدے کے مطابق اسی دوران امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے اپ گریڈ کے لیے منظوری دی، جس کی مجموعی مالیت 680 ملین ڈالر بتائی گئی۔
صدر ٹرمپ نے امریکا اور پاکستان کے اشتراک سے بڑے تیل ذخائر کی ترقی کا بھی اعلان کیا، جبکہ انسداد دہشت گردی تعاون دوبارہ بحال ہوا اور تعلقات کے پرانے ستون کو نئی زندگی ملی۔
ماہرین کے مطابق پاکستان نے اپنے تعلقات کی مضبوطی، علاقائی چیلنجز کو فائدے میں بدلنا اور عالمی سطح پر اثر و رسوخ بڑھانا ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے۔
واشنگٹن میں پاکستان کی مہارت اور حکمت عملی نے خطے میں اس کی سیاسی اور اقتصادی قوت کو بلند کیا اور عالمی سطح پر پاکستان کو قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔
دی ڈپلومیٹ اور دیگر ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے ثالثی کو جھٹلانے اور امریکی ناراضی کے سبب اسے نہ صرف تجارتی نقصان اٹھانا پڑا
بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ بھی متاثر ہوئی، جبکہ پاکستان نے اس بحران کو اپنے فائدے میں بدل کر سفارتی میدان میں اہم کامیابی حاصل کی۔




