ڈھاکا (کشمیر ڈیجیٹل) بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سینئر رہنما مرزا فخر الاسلام عالمگیر ملک کے نئے صدر منتخب ہوگئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق 78 سالہ مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے پارلیمانی ووٹنگ میں ریٹائرڈ آرمی کرنل اور اپوزیشن اتحاد کے امیدوار اولی احمد کو شکست دے کر صدارتی انتخاب اپنے نام کیا۔
بنگلہ دیش میں صدر کا عہدہ زیادہ تر رسمی نوعیت کا ہے۔ نئے صدر آئینی طور پر ملک کے سربراہِ مملکت ہونے کے ساتھ مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں گے، جبکہ ملک کے انتظامی اور حکومتی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس رہیں گے۔
بی این پی کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے طویل سیاسی سفر
مرزا فخر الاسلام عالمگیر 2016 سے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل کے طور پر ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے دور حکومت میں وہ اپوزیشن کی نمایاں آواز کے طور پر سامنے آئے۔ سیاسی سرگرمیوں کے باعث انہیں مختلف مواقع پر گرفتاری اور مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
عام انتخابات کے بعد بی این پی کی مضبوط پوزیشن
رواں سال 12 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کرلی تھی، جس کے بعد پارٹی کا سیاسی اثر و رسوخ مزید مضبوط ہوگیا۔
سابق صدر کے استعفے کے بعد انتخاب
مرزا فخر الاسلام عالمگیر کا انتخاب سابق صدر محمد شہاب الدین کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد عمل میں آیا۔ محمد شہاب الدین نے اپنی پانچ سالہ آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل گزشتہ ماہ خرابی صحت کے باعث استعفیٰ دے دیا تھا۔
صدر کا عہدہ رسمی، اختیارات وزیراعظم کے پاس
نئے صدر کے انتخاب سے بنگلہ دیش کی سیاست میں بی این پی کی پوزیشن مزید نمایاں ہوگئی ہے، تاہم آئینی طور پر ملک کے انتظامی فیصلوں کا بنیادی اختیار بدستور وزیراعظم اور کابینہ کے پاس رہے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش کا بھارت کے متبادل کے طور پر پاکستان سے رجوع، اہم امور جلد طے پا جائیں گے، بنگلہ دیشی ہائی کمشنر




