بانی پی ٹی آئی عمران خان طبی معائنہ کیلئے اڈیالہ جیل سےہسپتال روانہ

راولپنڈی/اسلام آباد: سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو اڈیالہ جیل سے طبی معائنہ کیلئے ہسپتال کیلئے روانہ کردیا گیا ۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جیل حکام نے منتقلی کے لیے تمام قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد عمران خان کو اسپتال روانہ کیا۔

عمران خان کی اسپتال منتقلی سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کے تحت کی گئی ہے۔

عدالت عظمیٰ نے عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کیلئے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا اور حکام کو 48 گھنٹوں کے اندر منتقلی مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی ہسپتال منتقلی: سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد شروع

ذرائع کے مطابق عمران خان کی منتقلی کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور راستے میں 800 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔ اسلام آباد پولیس اسکواڈ کی دو گاڑیاں بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔

شفا انٹرنیشنل اسپتال میں بھی سیکیورٹی کلیئرنس مکمل کرلی گئی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی کے حصار میں موجود اسپتال کے عملے سے موبائل فون جمع کر لیے گئے جبکہ علاقے میں مواصلاتی سگنلز بھی بند کیے گئے۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے منگل کو عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کے طبی معائنے اور علاج کی نگرانی کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی تھی۔

یہ حکم عمران خان کے وکلا اور اہل خانہ کی جانب سے ان کی صحت سے متعلق خدشات ظاہر کیے جانے کے بعد سامنے آیا۔

پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا، جبکہ وفاقی حکومت نے نجی اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے نظرثانی کی درخواست دائر کی۔

تاہم، سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے جمعرات کو حکومتی نظرثانی درخواست بعض اعتراضات، جن میں کاغذات کی نامکمل تکمیل بھی شامل ہے، کے باعث واپس کردی۔ حکومت کی جانب سے اعتراضات دور کرکے درخواست دوبارہ جمع کرائے جانے کا امکان ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ہائیکورٹ آزادکشمیر:صدارتی انتخاب،آئینی ترامیم ،لاجر بینچ مکمل نہ ہوسکا، کارووائی 9 ستمبر تک ملتوی

دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کو جیل میں آئین، جیل قوانین اور سابقہ عدالتی احکامات کے مطابق ضروری سہولیات اور طبی علاج فراہم کیا جاتا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق انہیں علیحدہ جگہ، ایئر کولر، گدے سمیت بستر، ذاتی ورکر اور باورچی کی سہولت، اخبارات اور کتابیں، جبکہ کھانے کے مناسب انتظامات بھی فراہم کیے گئے تھے۔

عمران خان کی اسپتال منتقلی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ان کی قید اور صحت سے متعلق معاملہ سیاسی طور پر خاصی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ وہ 2023 سے جیل میں ہیں اور 2022 میں وزارتِ عظمیٰ سے برطرف کیے جانے کے بعد سے متعدد قانونی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق اسپتال اور عمران خان کی منتقلی کے راستے پر سیکیورٹی بدستور سخت رکھی جائے گی۔ پی ٹی آئی نے بھی کارکنوں اور حامیوں سے اسپتال کے اطراف جمع نہ ہونے اور کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

اب توجہ عمران خان کے طبی معائنے، میڈیکل بورڈ کی سفارشات اور حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے منتقلی کے حکم کے خلاف آئندہ قانونی کارروائی پر مرکوز ہے