ہندوستان میں قومی نغمے ’وندے ماترم‘ پر کانگریس اور بی جے پی میں تنازع، اپوزیشن کا صرف 2 اشعار گانے کا فیصلہ برقرار

ہندوستان میں قومی نغمے ’وندے ماترم‘ کی مکمل یا مختصر شکل گائے جانے کے معاملے پر اہم اپوزیشن جماعت کانگریس اور حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان سیاسی تنازع شدید تر ہو گیا ہے۔ کانگریس کی ورکنگ کمیٹی نے باضابطہ فیصلہ کیا ہے کہ پارٹی کی تمام تر تقریبات کے دوران وندے ماترم کے صرف ابتدائی دو اشعار ہی گائے جائیں گے۔

کانگریس کا موقف اور 1937 کی تاریخی قرارداد:

کانگریس پارٹی نے اپنے اس فیصلے کے دفاع میں 1937 کی ایک تاریخی قرارداد کا حوالہ دیا ہے، جس میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ پارٹی کی تقریبات میں قومی نغمے کے صرف پہلے دو اشعار گائے جائیں گے۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال کا کہنا ہے کہ پارٹی کا موجودہ موقف اسی تاریخی فیصلے کے عین مطابق ہے جس پر قائم رہا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ہاکی کو بھارت سے شکست،ورلڈ کپ سے بھی باہر ہو گئی

انہوں نے مزید کہا کہ 1937 کے اس فیصلے کے وقت مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو، رابندر ناتھ ٹیگور، سبھاش چندر بوس اور سردار پٹیل جیسے عظیم رہنما موجود تھے، اس لیے کانگریس کا یہ موقف کسی نئے فیصلے یا تبدیلی کا نتیجہ بالکل نہیں ہے۔

بی جے پی کی شدید تنقید اور ‘نئی مسلم لیگ’ کا الزام:

دوسری جانب بی جے پی نے کانگریس کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اپوزیشن جماعت قومی نغمے کی توہین کر رہی ہے۔ بی جے پی کے قومی ترجمان سدھانشو تریویدی نے کانگریس کو ’نئی مسلم لیگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے فیصلوں سے کانگریس کی حب الوطنی اور ملک سے وفاداری پر سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔

ترجمان بی جے پی کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے کانگریس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ خود کو آئین، پارلیمنٹ اور ملک سے بھی بالاتر سمجھتی ہے۔ انہوں نے کانگریس کے اس موقف کو 1931 میں مسلم لیگ کی جانب سے وندے ماترم کا مکمل ورژن گانے کی مخالفت کی تاریخ سے جوڑ دیا۔

سیاسی مقاصد اور ماضی کے واقعات کا تناظر:

اس کے جواب میں کانگریس رہنما کے سی وینوگوپال نے بی جے پی پر برہم ہوتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ قومی نغمے اور قومی ترانے کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی اس تنازع کو محض دیگر اہم قومی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ہوا دے رہی ہے۔

واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت دوبارہ گرم ہوا جب سابق کانگریس صدر سونیا گاندھی کی ایک تقریب میں وندے ماترم گائے جانے کے دوران ان کی حرکات پر بی جے پی نے اعتراض کیا تھا، جسے کانگریس نے رد کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کو بھی گوا میں مختصر ورژن گانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس پر انہوں نے جواب دیا تھا کہ انہوں نے وہی ورژن گایا ہے جو ماضی میں گاندھی، نہرو، پٹیل اور اٹل بہاری واجپائی گاتے رہے ہیں۔