پرنس ہیری اور میگن مارکل رواں ماہ برطانیہ منتقل ہونے کے لیے تیار، شاہی فرائض پر واپسی کا کوئی امکان نہیں

شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگن مارکل نے رواں ماہ کے آخر میں امریکہ سے برطانیہ منتقل ہونے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ برطانوی نشریا تی ادارے بی بی سی نیوز کے مطابق ڈیوک اینڈ ڈچز آف سسیکس لندن کے باہر ایک نجی، غیر شاہی رہائش گاہ میں منتقل ہونے کے خواہشمند ہیں، جس کی خبریں سب سے پہلے ڈیلی ٹیلی گراف اور دی سن میں سامنے آئیں۔ شاہی جوڑے کے بچوں، سات سالہ شہزادہ آرچی اور پانچ سالہ شہزادی للی بیٹ کا ستمبر سے برطانیہ کے ایک اسکول میں داخلہ کروا دیا گیا ہے۔

کنگ چارلس اور شاہی خاندان کو اطلاع:

کنگ چارلس کو اتوار کے روز اس فیصلے کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شاہی خاندان میں اس منتقلی کے باوجود شہزادہ ہیری یا میگن کے بطور ورکنگ رائلز اپنی سرکاری ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالنے کا فی الحال کوئی امکان نہیں ہے۔ دونوں نجی افراد کے طور پر ہی زندگی بسر کرتے رہیں گے۔ پرنس اینڈ پرنسز آف ویلز کو بھی اس فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ترکیہ میں ٹرمپ ایرانی نشانے پرآگئے،خفیہ طور پر برطانیہ منتقل کیا،نیویارک ٹائمز کا انکشاف

شاہی تعلقات اور ماضی کا پس منظر:

سسیکس خاندان نے اس سے قبل جولائی میں ہائی گروو میں کنگ چارلس اور ملکہ کمیلا سے ملاقات کی تھی، تاہم اس وقت منتقلی کے معاملے پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی تھی۔ شاہی محل نے اس ملاقات کو ایک “نجی خاندانی تقریب” قرار دیا تھا، جو چار سال سے زائد عرصے میں بادشاہ کی اپنے پوتے پوتیوں سے پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔ واضح رہے کہ ہیری اور میگن 2020 کے اوائل میں شاہی فرائض سے دستبردار ہو کر برطانیہ سے چلے گئے تھے اور اسی سال مارچ میں کیلیفورنیا میں آباد ہو گئے تھے، جس کے بعد سے خاندانی تعلقات میں کشیدگی چلی آ رہی تھی۔

سیکیورٹی کے مسائل اور عدالتی تنازعات:

برطانیہ میں سیکیورٹی کا مسئلہ ڈیوک آف سسیکس کے لیے طویل عرصے سے تنازع کا باعث رہا ہے۔ گزشتہ سال شہزادہ ہیری کو برطانیہ میں سرکاری سیکیورٹی کی سطح میں کمی کے خلاف قانونی جنگ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا، جو کہ ورکنگ رائل نہ رہنے اور امریکہ منتقلی کے بعد کی گئی تھی۔ ہوم آفس کے ترجمان کے مطابق شاہی شخصیات کی سیکیورٹی کے فیصلے راویک (Ravec) کمیٹی کے تحت کیے جاتے ہیں اور برطانوی تحفظ کا نظام مکمل طور پر جامع اور متناسب ہے۔

انوکٹس گیمز اور آئندہ کے امور:

جولائی کے دورے کے دوران شہزادہ ہیری نے برمنگھم میں منعقد ہونے والی ‘انوکٹس گیمز’ کی تشہیر بھی کی تھی۔ انوکٹس گیمز فاؤنڈیشن کے چیف پروگرامز اینڈ اسٹریٹیجی آفیسر ڈیوڈ وائزمین نے پرنس ہیری کی برطانیہ واپسی کو خوش آئند اور بہترین خبر قرار دیتے ہوئے بچوں کی اسکولنگ اور منتقلی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ تاہم پرنس ہیری نے پریس کی مداخلت پر عدالت میں شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے اور وہ اخبارات کے خلاف متعدد قانونی چارہ جوئیاں بھی کر چکے ہیں۔