پراوین ساہنی کی بھارتی پروپیگنڈا ڈاکیومینڑی پر کڑی تنقید، حالات بدلنے کی تاریخ بھی دیدی

بھارتی صحافی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار پراوین ساہنی نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگوں پر بننے والی بھارتی فلموں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں غیر حقیقی اور یک طرفہ قرار دیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں پراوین ساہنی نے کہا کہ وہ بھارت اور پاکستان کی جنگوں پر بننے والی فلمیں نہیں دیکھتے تاہم وہ ایکس پر ان فلموں سے متعلق بعض پوسٹس، تبصرے اور ویڈیو کلپس دیکھتے اور پڑھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی سفارتی کمزوری ،عالمی صورتِحال پاکستان کے حق میں بدل رہی ہے، بھارتی دفاعی ماہر پراوین ساہنی

انہوں نے کہا کہ جو شخص ان جنگوں کو سمجھتا ہے اس کے لیے ایسی تمام فلمیں غیر حقیقی اور انتہائی یک طرفہ نظر آتی ہیں جبکہ ان میں بڑی خامیاں بھی موجود ہوتی ہیں۔

پراوین ساہنی نے کہا کہ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسی فلمیں کیوں بنائی جاتی ہیں۔

ان کے مطابق ان کا ایک مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ بھارتی فوج پاکستانی فوج سے برتر ہے، دوسرا مقصد قوم پرستی کو انتہائی سطح تک بڑھانا اور تیسرا یہ تاثر پیدا کرنا ہے کہ بھارتی فوج کو سوال یا تنقید سے بالاتر سمجھا جائے۔

بھارتی صحافی نے مزید کہا کہ ایسے بیانیے کے تحت بھارتی فوج پر سوال اٹھانا گویا ایک مقدس چیز کی بے حرمتی کے مترادف بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بھارتی معاشرے کی موجودہ صورتحال پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 12 برس سے زیادہ تر بھارتی ایک خیالی دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں۔

پراوین ساہنی کے مطابق جو لوگ اس ’خیالی دنیا‘ کا حصہ نہیں ہیں انہیں اب ’دماغی نکسل‘ کہا جاتا ہے۔

انہوں نے بھارتی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’لوگو، نیند سے جاگیں، وقت بدل رہا ہے اور بہت تیزی سے بدل رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ مودی سے ناراض،چین کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان بھارت سے جنگ ہارے، بھارتی تجزیہ کار پراوین ساہنی

بھارتی صحافی نے اپنے بیان کے اختتام پر دعویٰ کیا کہ سال 2029 سے پہلے حالات بہتر سمت میں تبدیل ہونے والے ہیں۔

پراوین ساہنی کے یہ تبصرے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب بھارت اور پاکستان کے درمیان ماضی کی جنگوں اور حالیہ کشیدگی کو موضوع بنانے والی فلموں اور دیگر مواد پر دونوں ممالک میں بحث جاری ہے۔