تہران (کشمیر ڈیجیٹل) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کے ساتھ ہونے والی امن مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے اسے ملک کی طاقت اور وقار کا مظہر قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ سفارتی محاذ پر ایران کے قومی مفادات کے عین مطابق اور ملک کی عزت کو برقرار رکھتے ہوئے طے پایا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے واضح کیا کہ سامنے آنے والی مفاہمتی یادداشت کسی بھی طور پر دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس اہم دستاویز کو ماہرین سے تفصیلی اور گہرے مشاورت کے عمل کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے تاکہ تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جا سکے۔
قومی مفادات اور خودمختاری کا تحفظ:
صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے ایران نے اپنی عزت، خودمختاری اور تمام بنیادی قومی مفادات کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت ملک کی طاقتور پالیسیوں اور اصولوں پر مبنی حکمت عملی کا نتیجہ ہے جس میں کسی بھی سطح پر لچک یا سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز پر امریکی دعوے کے خلاف ایران کا سخت ردعمل
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا ردعمل:
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی اس امن مفاہمتی یادداشت پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے اسے ایران کی عظمت اور کھلی فتح کا ایک واضح ثبوت قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ سفارتی محاذ پر ایران کے مواقف اور مسلسل کامیابیوں کو مزید مضبوط و مستحکم کرنے کی سمت میں ایک اہم اقدام ہے۔
اسپیکر محمد باقر قالیباف کے مطابق یہ تاریخی کامیابی سفارتی سطح پر ایران کی پہلے سے موجود مضبوط پوزیشن کو مزید استحکام بخشے گی اور ملکی وقار میں اضافے کا باعث بنے گی۔




