تحریر: کرن عزیز کشمیری
پاکستان کے اندرونی مسائل ہوں یا آزاد کشمیر میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، بھارتی میڈیا پاکستان دشمنی کے خلاف بیانیہ بنانے اور سرحد کے اس پار حالات کو جنگ، چیخ چیخ کر بیان کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ایک بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک نے کشمیری مسلمانوں پر اپنی ظالم فوج کے ذریعے اتنے مظالم ڈھائے کہ انسانیت بھی شرما جائے۔
بھارت کی طرف سے ایک بیان سامنے آیا ہے کہ مکمل جوائنٹ دفاعی معاہدے پر گہری نظر ہے۔ اس بیان کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو بھارت پاکستان یا یوں کہیں کہ امت مسلمہ کے اندرونی معاملات کا جائزہ لینے کی آڑ میں مداخلت کی کوشش کر رہا ہے، واضح ہے کہ بھارتی وزیراعظم نے ایک ایسے وقت میں اسرائیل کا دورہ کیا تھا جب امریکہ کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا گیا تھا، یہ دورہ تب بھی سوالیہ نشان تھا کہ بھارت جان بوجھ کر جنگ کی حمایت کرنے یا اسرائیل کا ساتھ دینے کی کوشش تو نہیں کر رہا۔ اس سلسلے میں اہم امر یہ ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے اہم مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔
بھارت اور اسرائیل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔بھارت ہرگز خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کر رہا۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ تینوں ممالک کے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ پوری مسلم امہ پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدہ ممکنہ نیٹو طرز کا اتحاد ہے، مزید ممالک بھی شامل ہوں گے۔ امت مسلمہ کا اتحادوقت کا اہم تقاضا ہے، تاہم یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان میں امن و امان خراب کرنے میں بھارت کا ہمیشہ سے سازشی کردار رہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے لاکھوں بچے خوف کے سائے میں پلے بڑھے۔ ان کی پر ورشی والدین کو ایک ایسے ماحول میں کرنا پڑی جہاں سناٹے میں صرف فوجی بوٹوں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ کشمیر ہر گز آپ علام قوم نہیں ہے۔ نہ ہی کبھی کسی غاصب کی غلامی قبول کرے گی۔ کشمیری دنیا کے کسی کونے میں بھی ہوں، آزادی کو ہی ترجیح دیتے ہیں اور اتحاد کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بھارتی قابض فورسز کی جانب سےانسانی حقوق کی پامالیاں، انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مسلسل نظر انداز کی گئیں۔ کم عمر بچوں اور نوجوانوں کی گرفتاریاں وادی کے لوگوں کیلئے تشدد کا باعث رہی۔ شہریوں پر دوران حراست تشدد کیا گیا، دھمکیوں اور دباؤ کے ذریعے ان کو ان کے حقوق سے دور رکھنے کی ناکام کوششیں کی گئیں مگر تاریخ گواہ ہے، خوف بھی ظلم کو مٹا تا نہیں ، ظالم خود مٹ جاتا ہے۔ غاصب اپنے انجام تک پہنچ کر ہتا ہے۔ بھارت نے کشمیری نوجوانوں کے مستقبل پر گہرے منفی اثرات مرتب کرنے کیلئے دہشتگردی کی انتہا کردی۔
بھارتی فورسز نے دہشت کردی، وادی میں خوف کی علامت بن کر رہ گئی ہے۔ بھارت نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے خوف و دہشت کی دنیا میں ایک نئی مثال قائم کی۔ قابض بھارتی افواج کی جانب سے محاصرےور تلاشی کشمیریوں کو غلام بنا ئے رکھنے کی جانب ایک انتہانی خوف ناک اقدام تھا۔
دنیا یہ نہ بھولے کہ مقبوضہ وادی میں امن قائم ہے۔ بھارتی حکومت اور اسکے فوجی۔ مقبوضہ وادی کی توانا۔ آوازوں کو خاموش کروا کر۔ دنیا کو دھوکے میں نہیں رکھ سکتے۔ حراست میں لئے گئے۔حریت رہنماؤں کو طویل عرصے سے قید میں رکھا گیا ہے۔ آخران رہنماؤں کے حق میں اٹھنے والی آوازیں کیوں خاموش کروادی گئیں؟ بھارت میں بسنے والے مسلمان مودی حکومت سے شدید نالاں ہیں۔ حریت رہنماؤں کی گر تی ہوئی صحت کے لیے تمام انسانی حقوق کی تنظیموںکو کردار ادا کرنا چاہیے۔
انسان حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں کشمیری حریت رہنماؤں اور کارکنوں کے۔ بھارتی عدالتوں میں غیر منصفانہ۔ مقدمات کا نوٹس لیں۔ ان کا ٹرائل حق کی بنیاد پر نہیں کیا جا رہا ہے۔ دنیا کو کشمیریوں پر ہونے والے ظلم کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں خاموش تماشائی کا کردار بھی قابل قبول نہیں ہے۔
عالمی برادری کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا نوٹس لے۔ بھارت نہیں چاہتا کے خطے میں امن و استحکام اور تعلقات میں بہتری برقرار رہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پردے کے پیچھے بھارت خاموش نہیں ہے بلکہ دہشتگرانہ کا روائیوں کو انجام دینے کیلئے مختلف منصوبوں پر عمل پیرا ہوسکتا ہے اور مودی حکومت اقتدار کے مزے دوبارہ سمیٹنے کیلئے پاکستان اور اپنے حقوق کی جنگ لڑتے آزاد کشمیر کے رہنے والوں پر بری نظر رکھے بیٹھا ہے۔ اب معاملہ یہ ہے کہ خطے کے امن و استحکام کیلئے ہمیں خارجی طور پر نہیں بلکہ مل بیٹھ کر سر مسائل کے حل کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے کردار ادا کرنا ہوگا۔



