15 اگست کو بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر ایل او سی کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے اسے مکمل طور پر ‘یوم سیاہ’ کے طور پر منایا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی اپیل پر مقبوضہ جموں و کشمیر، آزاد کشمیر اور پاکستان بھر میں مظاہرے، احتجاجی ریلیاں اور احتجاجی پروگرام منعقد کیے گئے، جن کا مقصد مقبوضہ وادی میں بھارتی قبضے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف بین الاقوامی برادری کی توجہ مبذول کروانا تھا۔
ضلع کوٹلی سمیت آزاد کشمیر کے تمام اہم شہروں میں ضلعی انتظامیہ، وکلاء برادری، حریت رہنماؤں، تعلیمی اداروں کے طلباء اور شہریوں نے بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر بھارت کی تسلط پسندانہ پالیسیوں اور مظالم کی شدید مذمت کی۔
کوٹلی میں ضلعی انتظامیہ کی قیادت میں احتجاجی ریلی:
ضلع کوٹلی میں ڈپٹی کمشنر آفس سے ڈسٹرکٹ پریس کلب تک ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ ریلی کی قیادت ضلعی انتظامیہ کے افسران نے کی جبکہ شرکاء نے ہاتھوں میں سیاہ پرچم، بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بھارتی مظالم کی مخالفت اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حق میں نعرے تحریر تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کوٹلی میں بھارت کے یوم آزادی پر احتجاجی ریلی، یوم سیاہ منایا گیا
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عفت اعظم، حریت رہنما محمود قریشی ایڈووکیٹ اور نصیر راٹھور ایڈووکیٹ نے کہا کہ 15 اگست کا دن کشمیریوں کے لیے یوم سیاہ ہے کیونکہ بھارت نے دہائیوں سے کشمیریوں کو ان کا بنیادی اور قانونی حق خودارادیت نہیں دیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی جبر کا نوٹس لے کر کشمیری عوام کو ان کا حق خودارادیت دلایا جائے۔
مظفرآباد اور دیگر اضلاع میں جلسے اور ریلیاں:
آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں برہان وانی چوک پر کل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر تنظیموں کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ ریلی میں خواتین، بزرگوں اور سول سوسائٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور آزادی کے حق میں پرجوش نعرے بازی کی۔
مقررین نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ جب تک مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق ان کی مرضی کا فیصلہ کرنے کا موقع نہیں ملتا، بھارت کو مقبوضہ علاقے میں کسی قسم کی تقریب یا یوم آزادی منانے کا کوئی اخلاقی و قانونی جواز حاصل نہیں ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں سخت سیکیورٹی اور پابندیاں:
دوسری جانب مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکام نے کسی بھی ممکنہ مظاہرے کو روکنے کے لیے سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی تھی۔ ذرائع کے مطابق سری نگر کے بخش اسٹڈیم اور اس کے اطراف ملٹی لیئر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، اونچی عمارتوں پر شارپ شوٹرز تعینات کیے گئے اور ڈرون کیمروں سے نگرانی کی گئی۔
وادی کے متعدد علاقوں میں بیریکیڈز لگا کر گاڑیوں اور شہریوں کی سخت تلاشی کا سلسلہ جاری رہا، تاہم حریت رہنماؤں اور عوام نے بھارتی تسلط کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے پرامن طور پر سیاہ پرچم لہرائے اور احتجاج ریکارڈ کرایا۔
ضلع نیلم میں بھی بھارت کے یومِ آزادی 15 اگست کو کشمیری عوام نے مکمل طور پر ‘یومِ سیاہ’ کے طور پر منایا۔ اس سلسلے میں ضلعی ہیڈکوارٹر آٹھمقام میں اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر آٹھمقام چوہدری بشارت کی قیادت میں ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں تاجر برادری، طلبہ و طالبات، سرکاری ملازمین، سول سوسائٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔
ریلی کے شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں سیاہ پرچم اٹھا رکھے تھے اور بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر بھارت کے غیر قانونی قبضے کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اس موقع پر شرکاء نے بھارت مخالف تحریروں پر مشتمل بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور بھارتی پالیسیوں کے خلاف پرجوش نعرے بازی کی۔
15 اگست کشمیریوں کے لیے یومِ سیاہ ہے، رہنماؤں کا خطاب:
ریلی کے موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر آٹھمقام چوہدری بشارت اور اعجاز سلطان ایڈووکیٹ نے اپنے خظاب میں کہا کہ 15 اگست کشمیری عوام کے لیے کسی جشن کا دن نہیں بلکہ یومِ سیاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اپنے بنیادی حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی تسلط، ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔
رہنماؤں نے مزید کہا کہ اس دن کو یومِ سیاہ کے طور پر منانے کا بنیادی مقصد عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی ابتر صورتحال کی جانب مبذول کرانا اور مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا فوری نوٹس لے اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حقِ خودارادیت دلانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
حقِ خودارادیت اور آزادی کی حمایت میں نعرے بازی:
چوہدری بشارت نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔ مسئلہ کشمیر کا پائیدار اور منصفانہ حل صرف کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں اور ان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔
ریلی کے اختتام پر علامہ حمیدالدین برکتی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر صحت عامہ سید مبشر گیلانی، شرافت ملک اور طاہر احمد بٹ سمیت دیگر رہنماؤں نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور آزادی کے حق میں جبکہ بھارتی مظالم کے خلاف زوردار نعرے بازی کی۔ تمام شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انسانی حقوق کی بحالی کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا جائے گا۔




