آزاد کشمیر بھر کی طرح ضلع کوٹلی میں بھی بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ڈپٹی کمشنر آفس سے ڈسٹرکٹ پریس کلب تک ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
اس احتجاجی ریلی میں سرکاری افسران، ملازمین، وکلاء، سیاسی و سماجی شخصیات کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کے خلاف، بھارت کی پالیسیوں کی مخالفت میں اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔
ضلعی انتظامیہ کی قیادت اور احتجاجی بینرز:
احتجاجی ریلی کی قیادت ضلعی انتظامیہ کے افسران نے کی۔ ریلی کے شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں مختلف پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام کی حق خودارادیت کی جدوجہد کے حق میں واضح نعرے تحریر تھے۔
اس موقع پر ریلی کے شرکاء نے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام اپنے بنیادی اور قانونی حق خودارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد کو پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے یوم آزادی پر کشمیریوں کا یوم سیاہ، مقبوضہ وادی چھائونی میں تبدیل
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عفت اعظم اور حریت قیادت کا خطاب:
یہ ریلی ڈپٹی کمشنر آفس سے شروع ہو کر شہر کے مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی ڈسٹرکٹ پریس کلب پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عفت اعظم نے کہا کہ بھارت کا یوم آزادی کشمیری عوام کے لیے یوم سیاہ ہے، کیونکہ بھارت نے گزشتہ کئی دہائیوں سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو ان کے بنیادی حق خودارادیت سے محروم کر رکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری عوام نے آزادی کے حصول کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ان کی اس جدوجہد کو کسی صورت دبایا نہیں جا سکتا۔
حریت رہنما محمود قریشی ایڈووکیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ریاستی جبر، انسانی حقوق کی پامالیوں اور بنیادی آزادیاں سلب کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام عالمی برادری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا رہے ہیں اور اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق اپنے حق خودارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
وکلاء برادری کے مطالبات اور خصوصی دعا:
نصیر راٹھور ایڈووکیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی ایک بالکل جائز اور اصولی جدوجہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور حکومت ہر موڑ پر کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے عالمی برادری سے زوردار مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیتے ہوئے کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق خودارادیت دلانے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرے۔
مقررین نے کہا کہ 15 اگست کو بھارت بھر میں یوم آزادی کی تقریبات منائی جاتی ہیں، تاہم کشمیری عوام اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں تاکہ عالمی برادری کو یہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام بھارتی تسلط کو تسلیم نہیں کرتے اور آزادی کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بعد ازاں ریلی کے اختتام پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی، شہداء کے درجات کی بلندی اور کشمیری عوام کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا کرائی گئی۔




