آزاد جموں و کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر مظفرآباد میں منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کالعدم ایکشن کمیٹی کے ناپاک عزائم اور مظالم کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کالعدم تنظیم کے مبینہ امن پسند کارندوں کی اصلیت اور ان کی ریاست مخالف سرگرمیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
آئی جی آزاد جموں و کشمیر کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک بیٹھ کر کشمیر پولیس پر تنقید کرنے والے اور گالیاں دینے والے عناصر کو اس کالعدم تنظیم کی حقیقت عاقب شہید کے والد سے پوچھنی چاہیے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ عاقب شہید کی لاش وصول کرنے کے لیے موجود ان کے اہلخانہ کو کالعدم تنظیم کے عناصر نے اغواء کیا، انہیں برہنہ کر کے شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کی غیر اخلاقی ویڈیوز بھی بنائیں۔
عاقب شہید کی شہادت اور لاش کو روکنے کا انکشاف:
آئی جی پولیس نے واقعے کی سنگینی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ عاقب شہید نے ایمبولینس میں جامِ شہادت نوش کیا تھا، لیکن اس شرپسند ٹولے اور کالعدم کمیٹی نے شہید کی لاش کو چار دن تک زبردستی روک کر رکھا۔ انہوں نے حقائق کو مسخ کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوال کیا کہ زمینی حقائق جانے بغیر پروپیگنڈا کرنے والے بتائیں کہ سینہ چاک کر کے زندہ جلانے والا ظالم تھا یا ملک کا تحفظ کرنے والا؟
یہ بھی پڑھیں: نیلم ویلی:کالعدم ایکشن کمیٹی کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیئے
انصاف کے تقاضے اور سازش کی ناکامی:
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس اہلکار گولیاں لگنے سے زخمی یا شہید ہو جائیں تو بھی انہیں ظالم قرار دیا جاتا ہے، جبکہ گولیاں مارنے والوں کو مظلوم بنا کر پیش کیا جاتا ہے؛ یہ کون سا انصاف ہے؟ آئی جی آزاد کشمیر کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے واضح کیا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کا ریاست مخالف پروپیگنڈا کر کے آزاد جموں و کشمیر میں انتشار پھیلانے کا مذموم منصوبہ اور سازش مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔




