ن لیگ

آزاد کشمیر میں حکومت سازی کیلئے ن لیگ کے پیپلزپارٹی سے رابطے تیز

آزاد کشمیر میں  نئی حکومت کی تشکیل اور سازگار ماحول بنانے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ اس معاملے پر مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے پاکستان پیپلزپارٹی سے رابطے بڑھا د ئیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کل ہونے والے انتخابات کے بعد انتخابی عمل کو مکمل تصور کیا جائے گا جبکہ باقی رہ جانے والی نشستوں پر بعد میں ضمنی انتخابات کرائے جائیں گے۔

موجودہ صورتحال میں پیپلزپارٹی کا سیاسی اور آئینی کردار خاص اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے موجودہ اسپیکر چوہدری لطیف اکبر قائم مقام صدرِ ریاست کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں۔

آئینی طور پر نئی آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس صدرِ ریاست نے طلب کرنا ہے جبکہ اسپیکر اسمبلی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نو منتخب ارکان سے حلف لیں گے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:حویلی میں ن لیگ کا بڑا پاور شو،پیپلز پارٹی نے شکست پر دھاندلی کا بیانیہ اپنایا، رانا ثنااللہ

چوہدری لطیف اکبر کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ہے، جس کے باعث نئی اسمبلی کا اجلاس بلانے، ارکان کی حلف برداری، اسپیکر کے انتخاب اور بعد ازاں حکومت سازی کے مرحلے میں پیپلزپارٹی کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

سردارایاز صادق کی یوسف رضا گیلانی سے ملاقات:

ذرائع کے مطابق اسی سیاسی صورت حال کے تناظر میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی۔

ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی انتخابی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس کے علاوہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی، کالعدم ایکشن کمیٹی کے دھرنے اور انتخابات کے بعد حکومت سازی کے آئندہ مرحلے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:موجودہ چیف الیکشن کمشنر نے 2016میں بھی ن لیگ کو دھاندلی سے اقتدار میں لایا تھا، پیپلزپارٹی قیادت

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان رابطوں کا مقصد آزاد کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت کم کرنا اور نئی حکومت کی تشکیل کیلئے اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔