لندن : یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر لندن میں قائم بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے تحریکِ کشمیر برطانیہ کے زیرِ اہتمام ایک بھرپور اور تاریخی احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا ہے۔ اس عظیم الشان احتجاجی مظاہرے میں برطانیہ بھر سے تعلق رکھنے والے کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کے ہزاروں افراد کے علاوہ مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی اور کمیونٹی تنظیموں کے ممتاز رہنماؤں اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
مظاہرین کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے اندر جاری انسانی حقوق کی شدید مبینہ خلاف ورزیوں، بڑھتے ہوئے سیاسی جبر، مقامی آبادی کے تناسب میں جبری تبدیلی کی پالیسیوں اور 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف سخت اور شدید احتجاج کیا گیا۔ اس موقع پر موجود تمام شرکاء نے کشمیری پرچم، بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیریوں کے بنیادی حقِ خودارادیت، انصاف، آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے حق میں واضح اور سخت نعرے درج کیے گئے تھے۔
مظاہرے کے قائدین کے خطابات اور قابض پالیسیوں کی شدید مذمت:
احتجاجی مظاہرے کے دوران اجتماع سے باقاعدہ خطاب کرتے ہوئے تحریکِ کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی، تحریکِ کشمیر یورپ کے رہنما محمد غالب، گلوبل کشمیر کے رہنما راجہ سکندر، پروفیسر شاہد اقبال، حریت رہنما نذیر قریشی، کشمیر کمپین گلوبل کے رہنما ظفر قریشی، نوجوان رہنما مزمل ایوب ٹھاکر اور خاتون حریت رہنما شائستہ صفی کے علاوہ دیگر مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان تمام مقررین کا کہنا تھا کہ بھارت گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیری عوام کو تقسیم کرنے، ان کی تاریخی شناخت کو کمزور کرنے اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادی کے قدرتی تناسب کو تبدیل کرنے کی مسلسل اور مختلف پالیسیاں اختیار کر رہا ہے، مگر کشمیری عوام نے ہر دور میں اپنے مسلمہ حقِ خودارادیت کی خاطر بے مثال اور تاریخی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام مسئلہ کشمیر کے حل سے جڑا ہے،صدر ، وزیراعظم کے یوم استحصال کشمیر پر پیغامات
مقررین نے اپنے خطابات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر قسم کا ظلم، جبر، بے گناہ افراد کی گرفتاری، ماورائے عدالت ہلاکتیں اور منظم آبادیاتی تبدیلیاں کشمیری عوام کے اندر موجود آزادانہ جذبے کو کسی صورت کمزور نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ جب تک دنیا کے کسی بھی خطے میں ایک بھی کشمیری زندہ و سلامت ہے، تحریکِ آزادیٔ کشمیر نہ تو کبھی ختم ہو سکتی ہے اور نہ ہی اس کی حرارت اور تپش میں کوئی کمی واقع ہو سکتی ہے۔
فضا میں گونجتے نعرے اور عالمی برادری کے لیے مطالبات:
اس عظیم الشان احتجاجی عمل کے دوران پورا ماحول “کشمیر بنے گا پاکستان” اور “ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے” کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کی آزادی و خودمختاری کے حق میں بلند ہونے والے دیگر پرجوش نعروں سے مسلسل گونجتا رہا۔ مظاہرین کا اس موقع پر کہنا تھا کہ وہ سوئے ہوئے عالمی ضمیر کو ہر صورت جھنجھوڑنے اور دنیا کی تمام بااثر قوتوں کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ خوفناک صورتحال کی جانب مبذول کرانے کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں تاکہ کشمیری عوام کی دبائی گئی مظلوم آواز کو عالمی ایوانوں تک مؤثر طریقے سے پہنچایا جا سکے۔
احتجاج میں شامل تمام شرکاء نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور تمام تر بااثر عالمی طاقتوں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں عام انسانی حقوق کے فوری تحفظ کو یقینی بنانے، کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دلانے اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ، پائیدار اور پرامن حل کے لیے اپنی قانونی و اخلاقی ذمہ داریاں فوری طور پر ادا کریں۔ مقررین نے اس بات پر بھی شدید زور دیا کہ عالمی برادری کشمیری عوام سے کیے گئے تمام وعدوں کو جلد از جلد عملی جامہ پہنائے اور اقوامِ متحدہ کی پاس کردہ متعلقہ قراردادوں کے عین مطابق مسئلہ کشمیر کے دائمی حل کی غرض سے مؤثر اور جرات مندانہ اقدامات اٹھائے۔
عالمی سطح پر پائیدار جدوجہد اور بیرونِ ملک مقیم کمیونٹی کا عزم:
مظاہرے کے مرکزی منتظمین کے واضح موقف کے مطابق اس اہم مظاہرے کے انعقاد کا بنیادی مقصد کشمیری عوام کے نقطہ نظر کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی مؤثر انداز میں اجاگر کرنا، دنیا کو مقبوضہ کشمیر کی اصل زمینی صورتحال کے حقائق سے آگاہ کرنا اور بین الاقوامی اداروں کو ان کی اہم ذمہ داریوں کا مکمل احساس دلانا تھا تاکہ کشمیری عوام کو بلا تاخیر انصاف اور ان کے جملہ بنیادی انسانی حقوق میسر آ سکیں۔
لندن کی سڑکوں پر ہونے والا یہ تاریخی احتجاج اس بات کے فولادی عزم کی روشن علامت تھا کہ بیرونِ ملک مقیم کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی اپنے مظلوم وطن کے عوام کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی جاری رکھے گی اور ہر بین الاقوامی فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کی کوششوں کو آنے والے دنوں میں مزید مؤثر اور فعال بنائے گی۔ احتجاجی مظاہرے میں مختلف سیاسی، سماجی اور کمیونٹی رہنماؤں کی پرجوش شرکت نے اس عالمی پیغام کو مزید تقویت دی کہ مسئلہ کشمیر آج کے دور میں بھی عالمی ضمیر کے لیے ایک انتہائی اہم انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے، جس کے منصفانہ حل کے لیے سنجیدہ، نڈر اور مؤثر بین الاقوامی کردار کی اشد ضرورت ہے۔




