مظفرآباد: عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں جمعرات کے روز مسلسل چوتھے دن بھی قیمتی دھات کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس حالیہ تیزی کے بعد سونا گزشتہ 7 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
عالمی مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 1 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 4 ہزار 285 اعشاریہ 84 ڈالر فی اونس تک جا پہنچی۔ 18 جون کے بعد سے اب تک عالمی منڈی میں سونا اس بلند ترین سطح پر ریکارڈ نہیں کیا گیا تھا۔ دوسری جانب امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت میں بھی واضح تیزی دیکھی گئی، جو 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 4 ہزار 345 اعشاریہ 80 ڈالر فی اونس کی سطح پر ٹریڈ کرتی رہی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ 10 ہزار روپے مہنگا ہوگیا
دیگر قیمتی دھاتوں کی صورت حال اور اضافے کی وجوہات:
سونے کے ساتھ ساتھ دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی مجموعی طور پر تیزی کا رجحان برقرار رہا۔ مارکیٹ رپورٹس کے مطابق اسپاٹ چاندی کی قیمت 0.1 فیصد اضافے کے بعد 62.16 ڈالر فی اونس جبکہ پلاٹینم 1.7 فیصد کے اضافے کے ساتھ 1,764.10 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔ اسی طرح پیلیڈیم کی قیمت میں بھی 1.1 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا اور وہ 1,377.83 ڈالر فی اونس کی سطح پر آگئی۔
معاشی ماہرین اور مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سطح پر سونے اور دیگر دھاتوں کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی بڑی وجوہات میں امریکی ڈالر کی قدر میں مسلسل کمزوری، امریکی ٹریژری بانڈز کی کم ہوتی ہوئی پیداوار اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے سے متعلق پیدا ہونے والی مثبت توقعات شامل ہیں۔
ماہرین کے تجزیے اور آئندہ کے امکانات:
آئی جی مارکیٹس کے معروف تجزیہ کار ٹونی سائکامور کا اس تمام تر صورت حال پر کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ممکنہ سفارتی پیش رفت کی امیدوں نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا ہے جس سے مارکیٹ پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: سونا پھر سستا، فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟
انہوں نے مزید کہا کہ اگر سونا اپنی 200 روزہ موونگ ایوریج سے اوپر اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہا تو آنے والے دنوں میں اس کی قیمت 5 ہزار ڈالر فی اونس کی نئی سطح کی جانب بڑھ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی معاشی صورت حال، امریکی ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی سیاسی حالات ہی آئندہ دنوں میں سونے کی قیمتوں کی سمت کا حتمی تعین کریں گے۔




