سری نگر (کشمیر ڈیجیٹل) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت فوری طور پر بحال کی جائے اور عوام کو ان کے آئینی و جمہوری حقوق واپس دئیے جائیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر سے جاری اپنے بیان میں فاروق عبداللہ نے 5 اگست 2019 کے بھارتی فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بھارت سے پاکستان سے مذاکرات کی باتیں، فاروق عبداللہ کا ردعمل آگیا
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرتے ہوئے اسے دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے ہندوستان کے اس اقدام کو تاریخی غلطی قراردیتے ہوئے کہا کہ ایک تاریخی ریاست کو مرکز کے زیر انتظام علاقے میں تبدیل کرنا بھارت کی جمہوری تاریخ پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مودی سرکارکی متنازعہ قانون سازی،کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا اقتدار خطرے میں پڑ گیا
ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے کے عوام کے حقوق کی بحالی اور ریاستی درجہ واپس کرنا وقت کی اہم ضرورت اور ان کا آئینی و قانونی حق ہے۔




