مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے پاکستان سے مذاکرات کے لیے بھارتی انتہاپسند جماعت آر ایس ایس اور سابق بھارتی آرمی چیف کے بیانات کی حمایت کردی۔
مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے اپنے ایک بیان میں پاکستان سے مذاکرات کے لیے آر ایس ایس اور سابق بھارتی آرمی چیف کے بیانات کو خوش آئند قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ پر فائرنگ، بال بال بچ گئے
انہوں نے کہاکہ کسی کو تو خیال آیا کہ جنگ کوئی آپشن نہیں ،مذاکرات سے ہی مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔
نئی دہلی میں جاری برکس اجلاس پر تبصرہ کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے امید ظاہر کی کہ یہ گروپ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین کے دورے کا بھی خیرمقدم کیا۔
2 روز پہلے آر ایس ایس کے سیکرٹری جنرل دتاتریہ ہوسابالےنے کہا تھا بھارت کو ہمیشہ پاکستان سے مذاکرات کے لیے تیار رہنا چاہیے، بات چیت کے دروازے بند نہیں کرنے چاہییں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان عالمی امن کا ضامن بن گیا؛ عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی اور میر واعظ کا پاکستانی سفارتکاری کو خراجِ تحسین
اس کے بعد بھارتی فوج کے سابق سربراہ منوج نروانے نے کہا تھا دونوں طرف لوگوں کے مسائل ایک جیسے ہیں،ان کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان نے کئی بار پاکستان کو مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل پر مذاکرات کی پیشکش کی لیکن بھارت نے ہمیشہ اسکے برعکس رویہ اپنا اور مودی سرکاری نے پاکستان مخالف پروپیگنڈا سے سیاست چمکانے کوشش کی۔
معرکہ حق میں پاکستان کے منہ توڑ جواب کے بعد بھارت سے بھی پاکستان کے حق میں آوازیں اٹھا رہی ہیں کہ مذاکرات سے مسائل حل کئے جائیں کیونکہ بھارت کے لوگوں کو بھی معلوم ہوگیا ہے کہ پاکستان سے میدان جنگ میں مقابلہ کرنا بھارت کے بس کی بات نہیں ہے۔




