میرپور (کشمیر ڈیجیٹل ) ڈپٹی کمشنر میرپور ساجد اسلم ،ایس ایس پی میرپور خرم اقبال نے کہا کہ میرپور میں رونما ہونیوالے ناخوشگوار واقعے کے حقائق کو تروڑ مڑوڑ کر پیش کیا گیا۔
ایسا ظاہر کیا گیا جیسے پولیس نے یہاں ایک درجن کے قریب انسانی جانوں کو ضائع کر دیا ہے اور ہسپتال پر قبضہ اور کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان تمام واقعات کو فوری منظم سازش کے تحت پھیلایا گیا اور شہر کا امن خراب کیا گیا جس میں مکمل طور پر کالعدم ایکشن کمیٹی ملوث ہے۔
انھوں نے بتایا کہ واقع کے روز ساجد پلازہ کے علاوہ مختلف افراد نے کالز کرکے بتایا کہ ایک جتھہ زبردستی دوکانیں بند کروا رہا ہے اور اس وقت قائد اعظم چوک گیا ہے جہاں تھانہ تھوتھال نے انھیں منتشر کرنے کی کوشش کی جس کی ویڈیوز موجود ہیں مگر وہ لوگ جو تعداد میں سو ڈیڑھ سو تھے۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:نیلم ویلی:سردار تنویر الیاس کا پاورشو ، سینکڑوں افراد آئی پی پی میں شامل
انھوں نے ڈسٹرکٹ کمپلیکس کی طرف مارچ شروع کر دیا اس دوران تھانہ سٹی پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی تو جتھے میں سے پولیس پر سیدھا فائر گیا گیا جسکے جواب میں پولیس نے فائرنگ کی جس کی زد میں آ کر ایک نوجوان ہسپتال دم توڑ گیا جبکہ تین زخمی ہوئے ۔
انھوں نے کہا واقعہ رونما ہونے کے دس منٹ کے اندر اندر سوشل میڈیا اور کالعدم کمیٹی کے پیجز پر اے آئی جنریٹڈ تصاویر اپ لوڈ ہو گئیں جس سے تاثر دیا گیا کہ میرپور کو لہولہان کر دیا اور یہاں درجنوں لوگ مار دئیے گئے ہیں۔
ہسپتال پر قبضے اور کرفیو کی خبریں چلائی گئیں جبکہ بعد ازاں بن خرماں میں الیکشن ڈیوٹی پر آے دو پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا گیا اور ان کی رہائش پر پتھراو کیا گیا ۔
پوری روڈ بند کرکے وہاں پولیس پر پتھراو اور سیدھی گولیاں ماری گئیں جس سے ایک اہلکار زخمی ہوا وہاں دو افراد ہلاک بھی ہوئے جن کی ہلاکت کا تعین کرنے کیلئےہمیں ٹھوس شواہد مل گئے ہیں،جن کی روشنی میں مقدمہ بنایا گیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد: چیئرمین بلاول بھٹو کے جلسہ عام کی تیاریاں ، شوکت جاوید میر نے انتظامات کا جائزہ لیا
انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بیٹھے ایسے شرپسندوں کے خلاف سخت ترین کارروائی شروع کی جا رہی ہے یہ لوگ کسی رعایت کے مستحق نہیں ایسا تمام عمل پری پلان تھا یہاں پرامن ترین الیکشن کے انعقاد سے ناخوش کالعدم کمیٹی نے امن خراب کیا اور جھوٹی خبریں چلائی گئیں ۔امام مسجد کی شہادت کی خبر بھی چلائی گئی، دھرنے والے بھی تقرریں کرکے لوگوں کو اکساتے رہے۔
اس موقع پر پولیس حکام نے جلوس نکالنے والے عناصر کے پاس موجود اسلحہ ،اے آئی اے جنریٹڈ جعلی لاشوں ،پولیس کے پاس اسلحہ کی جھوٹی ویڈیوز کی حقیقت بھی سامنے رکھی ۔انھوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے اس کو پورا کرینگے ۔
انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ پرامن رہیں انکی جان و مال کے تحفظ کے لئے پولیس ہمہ وقت چوکس ہے انہوں نے کہا کہ میرپور پرامن شہر ہے اور اسکے امن کو خراب کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے۔




