خام تیل

امریکا، ایران کشیدگی میں عارضی نرمی، خام تیل کی قیمتیں نیچے آ گئیں

امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں عارضی کمی اور فوجی کارروائیوں کی روک تھام کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کے نرخوں میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ کمی رواں سال 8 اپریل کے بعد ایک ہی دن میں خام تیل کی قیمتوں میں سب سے بڑی گراؤٹ ہے، جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں حالات کا قابو میں آنا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 11.3 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ 85.87 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔

اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت تقریباً 7 فیصد کم ہو کر 82.61 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں سے  دونوں ملکوں کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی سے سرمایہ کاروں کو خدشہ تھا کہ اگر تنازع مزید شدت آگئی تو خلیج میں تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں قیمتیں مزید بڑھنے کا امکان تھا۔

تاہم دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیوں میں عارضی وقفے نے ان خدشات کو وقتی طور پر کم کر دیا، جس کے بعد سرمایہ کاروں نے بڑے پیمانے پر منافع سمیٹنا شروع کیا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان

تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی توانائی کی منڈی کی اس وقت مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر ہے، کیونکہ ایران دنیا کے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔

آبنائے ہرمزعالمی تیل کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا فوجی تصادم عالمی تیل کی قیمتوں کو فوری طور پراثر انداز ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نے تہرانی حکومت کی درخواست پر ایران کے خلاف فوجی حملے روک دئیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر دونوں فریقین کے درمیان نئی جنگ بندی پر اتفاق نہ ہو سکا یا حالات دوبارہ خراب ہوئے تو امریکا ایک بار پھر فوجی کارروائی شروع کرے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران امریکا اور ایران میں سفارتی پیشرفت، جنگ بندی کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی حالات عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا تعین کرینگے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:خام تیل 90 ڈالر سے تجاوز کر گیا، پاکستان میں آج پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا فیصلہ ہوگا

اگر کشیدگی میں مزید کمی آتی ہے توتیل قیمتوں میں استحکام متوقع ہے، تاہم کسی بھی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں عالمی منڈی ایک بار پھربحران سے دوچار ہو سکتی ہے۔