سینٹ کام

ایران کیخلاف امریکی بحری ناکہ بندی تاحال مکمل طور پر نافذ ہے، سینٹ کام

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف نافذ بحری ناکہ بندی بدستور مکمل طور پر مؤثر ہے اور امریکی بحریہ خطے کے اہم سمندری راستوں پر مسلسل نگرانی کر رہی ہے تاکہ پابندیوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 25 جولائی تک امریکی افواج نے ایران جانے کی مبینہ کوشش کرنے والے 12 تجارتی جہازوں کا راستہ تبدیل کرایا۔ بیان میں کہا گیا کہ ان جہازوں کو متعدد بار ہدایات جاری کی گئیں، جس کے بعد انہیں اپنا سفر تبدیل کرنا پڑا۔

امریکی کمانڈ نے مزید دعویٰ کیا کہ دو ایسے جہاز، جنہوں نے امریکی احکامات پر عمل کرنے سے انکار کیا، انہیں کارروائی کے ذریعے ناکارہ بنا دیا گیا، جبکہ مزید دو جہازوں پر امریکی اہلکاروں نے چڑھ کر تلاشی اور تصدیقی کارروائی مکمل کی تاکہ ناکہ بندی پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

بیان کے مطابق آج بحیرہ عرب میں کوموروس کے پرچم والے آئل ٹینکر M/T Charminar پر بھی تصدیقی کارروائی کی گئی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ضروری جانچ مکمل ہونے کے بعد جہاز کو دوبارہ اپنا سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:امریکا کا ایک اور فوجی عراق میں ہلاک ہو گیا،سینٹ کام کی تصدیق

سینٹ کام نے مزید بتایا کہ 24 جولائی کو خلیجِ عمان میں موزمبیق کے پرچم والے آئل ٹینکر M/T Lavine کے خلاف کارروائی کی گئی۔ امریکی دعوے کے مطابق جہاز کے عملے نے متعدد مرتبہ ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کی اور بار بار جاری کی گئی وارننگز کو نظر انداز کیا، جس کے بعد جہاز کو ناکارہ بنا دیا گیا۔

امریکی کمانڈ کا کہنا ہے کہ مذکورہ آئل ٹینکر اب ایران کی جانب سفر نہیں کر رہا۔

اپنے بیان کے اختتام پر امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ اس کی افواج خطے کی صورتحال پر مسلسل گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، سمندری راستوں کی نگرانی جاری ہے اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر وقت مکمل طور پر تیار ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر کے حکم پر ایران کیخلاف فضائی حملے شروع کر دئیے :سینٹ کام کا اعلان

تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ کے دعوؤں پر ایران یا دیگر متعلقہ فریقوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔