نیویارک نیو جرسی اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے فیفا ورلڈ کپ کے فائنل معرکے میں اسپین یا ارجنٹینا میں سے جو بھی ٹیم فاتح بنے گی، اسے روایتی ٹرافی اور سونے کے تمغوں کے ساتھ فٹ بال کی تاریخ میں پہلی بار امریکی طرز کی قیمتی ’چیمپیئن شپ رنگز‘ (انگوٹھیاں) بھی تحفے میں دی جائیں گی۔ عالمی فٹ بال کی گورننگ باڈی (فیفا) نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ فائنل میچ کے فوری بعد فاتح ٹیم کو 30 مخصوص انگوٹھیاں پیش کی جائیں گی۔
میچ کے اختتام پر کپتان اور ہیڈ کوچ کو عارضی انگوٹھیاں دی جائیں گی، جس کے بعد کھلاڑیوں کے سائز اور ٹیم کی شناخت کے مطابق ان کو تیار کر کے بعد میں ایک پروقار تقریب میں تقسیم کیا جائے گا۔ ان انگوٹھیوں کے ایک طرف ورلڈ کپ ٹرافی کی شبیہ ہوگی جبکہ دوسری طرف جیتنے والی ٹیم کی تفصیلات درج ہوں گی۔
شائقین کے لیے سنہری موقع:
فیفا کے مطابق یہ انگوٹھیاں مجموعی طور پر صرف 2,026 کی تعداد میں تیار کی جا رہی ہیں۔ کھلاڑیوں کو دینے کے بعد باقی بچ جانے والی 1,996 انگوٹھیاں دنیا بھر کے شائقینِ فٹ بال کے لیے بطور آفیشل لائسنس یافتہ پروڈکٹ فروخت کے لیے پیش کی جائیں گی، جو کہ فٹ بال کے متوالوں کے لیے ایک یادگار تحفہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا فائنل : ایونٹ کو نیا رنگ دینے کا فیصلہ، اختتامی تقریب کے بعد ہوگا فائنل کا سنسنی خیز مقابلہ
فٹبال کا ’امریکی طرز‘ کی طرف جھکاؤ:
چیمپیئن شپ رنگز دینے کی یہ روایت شمالی امریکا کے کھیلوں جیسے کہ این ایف ایل، این بی اے، میجر لیگ بیس بال اور این ایچ ایل میں انتہائی مقبول ہے، لیکن فٹ بال کی تاریخ میں فیفا نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ موجودہ ورلڈ کپ میں فیفا نے فٹ بال کو امریکی کھیلوں کے رنگ میں ڈھالنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ اس فائنل میچ میں سپر باؤل کی طرز پر ہاف ٹائم کے دوران تفریحی شو بھی پیش کیا جائے گا جو فٹ بال کی روایات سے ہٹ کر ہے۔
مزید برآں، میچ کے 22ویں اور 67ویں منٹ پر 3،3 منٹ کا لازمی ہائیڈریشن بریک دیا جا رہا ہے، جس نے 90 منٹ کے کھیل کو عملاً 4 حصوں (کوارٹرز) میں تقسیم کر دیا ہے۔ اگرچہ فیفا کا مؤقف ہے کہ یہ بریک شدید گرمی اور حبس کی وجہ سے کھلاڑیوں کی صحت کے لیے ضروری ہیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے میچ کا تسلسل ٹوٹتا ہے اور یہ دراصل اشتہارات کے لیے کمرشل ونڈوز بنانے کا ایک طریقہ ہے۔
روایات اور جدید کاروبار کا ٹکراؤ:
فیفا کے ان اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ فٹ بال اب صرف ایک کھیل نہیں رہا بلکہ اسے امریکی مارکیٹ کے مطابق ایک منافع بخش کاروباری ماڈل میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ انگوٹھیاں متعارف کروانا اور ہاف ٹائم شو جیسے اقدامات دنیا بھر کے نئے شائقین اور سرمایہ کاروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی ایک چالاکانہ کوشش ہے۔
تاہم، کھیلوں کے ماہرین اور روایتی پرستار اس پر نالاں ہیں۔ میچ کو 4 حصوں میں تقسیم کرنے والے بریکس نے کوچز کو ’ٹیکٹیکل ٹائم آؤٹ‘ کا موقع دے دیا ہے، جس سے کھیل کی قدرتی روانی شدید متاثر ہوئی ہے۔ فیفا اگرچہ کمرشلائزیشن کے الزامات کی تردید کرتا ہے، لیکن فٹ بال کا یہ نیا روپ کھیل کی صدیوں پرانی روح اور سنسنی کو بدلنے کی قیمت پر سامنے آ رہا ہے۔




