جی ایچ کیو کے باہر دھرنے کی دھمکی، سینئر صحافی منصور علی خان فضل الرحمن پر برہم

سینئر صحافی و تجزیہ کار منصور علی خان نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان کے شہداء سے متعلق بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے شہداء کی قربانیوں کی توہین قرار دیا ہے، جبکہ جی ایچ کیو کے باہر دھرنے سے متعلق دی گئی دھمکی پر بھی تنقید کی ہے۔

منصور علی خان نے اپنے ردعمل میں کہا کہ فضل الرحمان کا یہ بیان کہ “انہیں تو شہید ہونے کے پیسے ملتے ہیں” انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ریمارکس سے میجر عزیز بھٹی، راشد منہاس اور دیگر شہداء کی قربانیوں اور عسکری اعزازات کی اہمیت متاثر ہوتی ہے۔

منصور علی خان نے کہا کہ انہوں نے شہدا کے والدین کو بچوں کے جنازوں میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا ہے،اگر پیسوں کے لئے شہید ہوتے ہیں تو پھر ان والدین میں ایسا جذبہ کہاں سے آتا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر انتخابات ملتوی سوشل میڈیا پروائرل مراسلہ جعلی ہے، الیکشن کمیشن

انہوں نے فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک دن اپنے بچے کو ڈنڈا دے کر گھر کے باہر کھڑا کریں اور اس سے کہیں کہ آج رات تم نے گھر کی حفاظت کرنی ہے تو آپ پوری رات سو نہیں سکیں گے اور چند منٹ بعد بچے کو واپس لے آئیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ پھر ایسے والدین جنھیں پتہ ہے کہ ان کا بچہ بارڈر پر ڈیوٹی دے رہا ہے اور دشمن کے سامنے کھڑا ہے۔ ان کی اس بچے سے نہ بات ہوسکتی ہے اور نہ ہی کوئی تصویر آتی ہے ایسے والدین اور ان کے بچوں کے بارے میں اس قسم کے بیانات افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر جان قربان کرنے والے جوانوں کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی قربانی پر فخر کرتے ہیں اور ملک کے لیے مزید قربانی دینے کے جذبے کا اظہار بھی کرتے ہیں، اس لیے ایسے بیانات ان خاندانوں کے جذبات کو مجروح کر سکتے ہیں۔

منصور علی خان نے مزید کہا کہ ان کے نزدیک اس معاملے پر وضاحت یا معذرت کے بجائے تنازع مزید بڑھایا جا رہا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سینئر افسر پاک فوج سے متعلق بھارتی اور افغانی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا پروپیگنڈا من گھڑت نکلا

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جے یو آئی (ف) کے رہنما عبدالغفور حیدری نے آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اگر فضل الرحمان پر تنقید بند نہ ہوئی تو جماعت جی ایچ کیو کے باہر دھرنا دے گی۔

انہوں نے کہا کہ انسان سے غلطی ہوجاتی ہے، اس پر معذرت کرکے وضاحت دینی چاہئے کہ لیکن فضل الرحمان اور ان کی جماعت تو معاملے کو کسی اور سمت میں لے کرجارہی ہے۔
ا
نہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر جی ایچ کیو کے باہر احتجاج ہوا اور وہاں شہداء کے اہل خانہ بھی پہنچ گئے تو کیا آپ اور آپ کے کارکنان ان سے آنکھیں ملا سکیں گے؟

منصور علی خان نے مزید کہا کہ معاملات کو اس نہج تک نہیں جانا چاہیے جہاں سے واپسی مشکل ہو۔ ملک کی سرحدوں پر خدمات انجام دینے والے فوجی جوانوں اور ان کے اہل خانہ کی قربانیوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔