آزاد کشمیر بھر میں معمولاتِ زندگی رواں دواں، شہریوں نے کلعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی کال مسترد کر دی

دارالحکومت مظفرآباد،ہٹیاں بال اور وادی لیپہ کے شہریوں نے کلعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی جانے والی لانگ مارچ اور ہڑتال کی کال کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد دونوں علاقوں میں معمولاتِ زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہیں۔ کشمیر ڈیجیٹل کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، شہر بھر میں کاروباری مراکز، مارکیٹیں اور ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق کھلے ہیں اور شہری بلا خوف و خطر اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔

بے یقینی کی صورتحال سے عام شہری اور تاجر پریشان:

 رپورٹ کے مطابق آزاد کشمیر میں گزشتہ کچھ عرصے سے پیدا کی جانے والی بے یقینی اور افراتفری کی صورتحال کے باعث عام شہریوں کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی تھی۔ بار بار کی ہڑتالوں اور احتجاجی کالز کی وجہ سے دیہاڑی دار طبقہ، غریب دکاندار اور عام شہری شدید ذہنی و معاشی پریشانی کا شکار تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا اسلام آباد پولیس کے اہلکار پر وحشیانہ تشدد، زبردستی انڈین کرنسی تھما کر ویڈیو بنا ڈالی

مقامی شہریوں اور تاجر برادری کا کہنا ہے کہ اس قسم کی احتجاجی کالز سے علاقے کی معیشت اور سیاحت کو شدید دھچکا پہنچتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب عوام نے ترقی اور امن کے سفر کو ترجیح دیتے ہوئے کسی بھی قسم کے احتجاج کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

وادی لیپہ میں بھی لانگ مارچ کی کال ناکام:

مظفرآباد کی طرح خوبصورت وادی لیپہ کے غیور شہریوں نے بھی کلعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی لانگ مارچ کی کال کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ وادی کے دور دراز علاقوں میں بھی دکانیں کھلی ہیں، ٹریفک بحال ہے اور لوگ اپنے کھیتوں اور کاروبار میں مصروف ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ ریاست کے امن کو برباد کرنے والے کسی بھی شرپسندانہ ایجنڈے کا ساتھ نہیں دیں گے۔

رپورٹ کے مطابق، شہریوں کی جانب سے امن پسندی کا ثبوت دینے اور کاروبارِ زندگی جاری رکھنے پر مقامی انتظامیہ نے بھی اطمینان کا اظہار کیا ہے اور شہر کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

ہٹیاں بالا میں بھی لانگ مارچ کی کال ناکام، شہریوں کا احتجاج سے لاتعلقی کا اظہار:

مظفرآباد اور وادی لیپہ کی طرح، ہٹیاں بالا کے غیور عوام نے بھی کلعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 15 جولائی کو دی گئی لانگ مارچ کی کال کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ہٹیاں بالا میں کاروباری مراکز اور ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہیں اور شہری کسی بھی قسم کے احتجاج کا حصہ بنے بغیر اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہیں۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں ترقی اور امن و امان چاہتے ہیں، اور بار بار کی ہڑتالوں کے ذریعے پیدا کی جانے والی معاشی اور ذہنی بے یقینی کو مزید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

مزید پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی کے 5 افراد گرفتار، تخریبی سرگرمیوں کے مذموم منصوبے بے نقاب