مولانا فضل الرحمان کے متنازع بیان پر سیاسی قیادت برہم، معافی کا فوری مطالبہ

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے پنجاب کے شہر قصور میں دیے گئے حالیہ متنازع بیان پر ملک کی سیاسی قیادت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ وفاقی وزراء، اسپیکر پنجاب اسمبلی اور دیگر سیاست دانوں کی جانب سے اس خطاب پر مذمت اور گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پنجاب کے شہر قصور میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے ملکی اداروں اور خاص طور پر فوج کے حوالے سے سخت اور متنازع گفتگو کی تھی۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ کے اس خطاب کے بعد ملک بھر کے سیاسی میدان میں ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا ہے اور وفاقی وزراء سمیت دیگر سیاست دانوں کی جانب سے شدید ردعمل اور مذمت کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر دفاع خواجہ آصف کا مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر سخت ترین ردعمل

وفاقی وزراء کا شدید ردعمل اور تنقید:

وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس معاملے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک کہنہ مشق سیاستدان اور ممتاز مذہبی رہنما ہیں، اس لیے ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فوجی جوانوں کی قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا غیرمنصفانہ اور شہداء کے خاندانوں کی سخت دل آزاری ہے، کیونکہ کوئی بھی شخص محض تنخواہ کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش نہیں کرتا بلکہ اس کے پیچھے نظریہ، عقیدہ اور وطن سے محبت کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی مولانا فضل الرحمان کے اس خطاب کو اسلامی تعلیمات اور اخلاقی تقاضوں کے مکمل طور پر منافی قرار دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ مولانا صاحب، آپ سے ہمارا تعلق ہمیشہ احترام کا رہا ہے لیکن آپ کے بیان سے یہ تاثر ملا کہ آپ نے جذبات میں بہہ کر شہداء کی قربانیوں کی قدر کو کم کر کے پیش کیا، جس سے کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات بری طرح مجروح ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آج اگر ہم مساجد، مدارس اور جلسوں میں امن و امان سے بیٹھے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ سرحد پر کھڑا سپاہی ہے۔

شہادت کے رتبے کی توہین اور معافی کا مطالبہ:

وزیر مملکت برائے سمندر پار پاکستانی امور عون چوہدری نے مولانا فضل الرحمان سے پوری قوم اور شہداء کے لواحقین سے فوری معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ مولانا صاحب نے شہادت جیسے عظیم اور مقدس رتبے کو تنخواہ سے جوڑ دیا ہے، حالانکہ شہادت تنخواہ سے نہیں بلکہ حب الوطنی اور ایمان کے جذبے سے حاصل ہوتی ہے۔

اسی طرح وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی رنج کا اظہار کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ کیا کسی شہید کی قیمتی جان کی کوئی قیمت ہو سکتی ہے؟ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب کو مل کر ایک متفقہ بیانیہ بنانے کی ضرورت پر خصوصی زور دیا۔ مزید برآں، وزیر مملکت برائے ریلوے حنیف عباسی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان سے پوری قوم کا دل دکھایا ہے، جبکہ پاک فوج گزشتہ پینتیس سال سے مسلسل حالت جنگ میں ہے۔

مزید پڑھیں: پاک فوج کیخلاف ہرزاسرائی، فیاض الحسن چوہان کا مولانا فضل الرحمن سے معافی کا مطالبہ

آئینی حدود اور قربانیوں کا دفاع:

اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے بھی سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ذرا ہوش سنبھال کر بات کریں، یہ فوج ہمارے ماتھے کا جھومر ہے اور اس کا ایک ایک جوان دشمنوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جان پیش کرتا ہے۔

دوسری جانب، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے بھی نام لیے بغیر اپنا ردعمل دیا اور کہا کہ شہادت مومن کا اصل مقصد ہے اور یہ ایسا راز ہے جو ہم دنیا داروں اور تنخواہ داروں کی سمجھ سے بالکل بالاتر ہے۔

استحکام پاکستان پارٹی کے ترجمان فیاض الحسن چوہان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ فوج تنخواہ کے لیے نہیں بلکہ صرف اور صرف وطن کے لیے قربانیاں دیتی ہے، مولانا صاحب کے اس بیان سے شہداء کے ورثاء کی سخت دل آزاری ہوئی ہے۔ تاہم، دوسری جانب سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اس معاملے پر ایک بالکل مختلف مؤقف اپنایا اور کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک سنجیدہ اور زیرک شخصیت ہیں، لہٰذا ان کی طرف سے خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر دیے گئے بیان کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے اس متنازعہ دورانِ خطاب یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ہر محکمے کا اپنا ایک دائرہ اختیار متعین ہے۔ اس کے بعد انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال پر کھل کر تنقید کی تھی، جس کے دوران انہوں نے فوجی جوانوں کی شہادت کے حوالے سے ایک انتہائی متنازعہ بیان جاری کیا۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ کے اس متنازع بیان پر وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا تارڑ سمیت متعدد وفاقی وزراء اور مختلف سیاسی رہنماؤں نے شدید ترین ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے شہداء کی قربانیوں کی واضح توہین قرار دیا ہے اور مولانا فضل الرحمان سے قوم اور لواحقین سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔